بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

25 جمادى الاخرى 1443ھ 29 جنوری 2022 ء

دارالافتاء

 

سجدۂ سہو کے سقوط کے مواقع


سوال

سجدۂ  سہو  کے سقوط کے مواقع بیان کردیجیے! 

جواب

مندرجہ ذیل مواقع پر سجدہ  سہو   ساقط   ہوجاتا ہے: 

(1) وقت کا تنگ ہونا: 

اگر جمعہ و عیدین کی نماز میں وقت نکلنے کا اندیشہ ہو تو سجدہ ٔ سہو ساقط ہوجاتا ہے، اسی طرح فجر کی نماز میں اگر سجدہ سہو واجب ہوا اور پہلا سلام پھیرتے ہی وقت نکل گیا تو سجدۂ سہو ساقط ہوجائے گا اور نماز کا اعادہ بھی لازم نہیں ہوگا۔ 

(2)  وقت مکروہ ہونا: 

اگر کسی شخص پر عصر کی نماز میں سجدہ ٔ سہو واجب ہوا اور سجدہ کرنے سے پہلے ہی سورج متغیر ہوگیا تو سجدۂ سہو ساقط ہوجائے گا اور نماز کا اعادہ بھی لازم نہیں ہوگا ؛ کیوں کہ طلوع آفتاب، نصف النہاراور غروب آفتاب کے وقت سجدہ کرنا اور سجدہ والی نماز پڑھنا مکروہِ تحریمی ہے،پس ان اوقات میں سجدہ ٔ سہو کرنا بھی مکروہِ تحریمی ہے۔ 

(3)  جو چیز نماز کو توڑنے والی اور بنا میں  مانع ہے مثلاً  عمداً  حدث کرنا یا کلام کرنا وغیرہ، اگر سلام کے بعد یہ  چیز پائی گئی تو اس سے سجدۂ سہو ساقط ہوجاتاہے ، پس اگر سجدۂ سہو کا ساقط ہونا نمازی کے اپنے فعل سے واقع ہوا ہے تو   اعادہ  واجب ہے، ورنہ نہیں۔ 

(4) اگر فرض نماز میں کسی پر سجدۂ سہو واجب ہوا اور سلام سے قبل اس نے عمداً نفل کی بنا کرلی تو  سجدۂ  سہو ساقط ہوجاتا ہے تا ہم ان فرضوں کا لوٹانا واجب ہوگا۔ 

(5) اگر جمعہ و عیدین میں مجمع اتنا زیادہ ہو کہ سجدہ ٔ سہو  سے انتشار اور تشویش پھیلنے کا خطرہ ہو  تو سجدۂ سہو   ساقط ہوجاتا ہے۔

حاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح شرح نور الإيضاح (ص: 463):

"و يسقط سجود السهو بطلوع الشمس بعد السلام في" صلاة "الفجر" و بخروج وقت الجمعة و العيد لفوات شرط الصحة "و" كذا يسقط لو سلم قبيل "احمرارها" أي تضير الشمس "في العصر" تحرزًا عن المكروه "و" يسقط "بوجود ما يمنع البناء بعد السلام" كحدث عمد وعمل مناف لفوات الشرط."

(كتاب الصلاة، باب سجود السهو، ط: دارالكتب العلمية بيروت)

  مأخذہ: (مع حذف و اضافہ) عمدۃ الفقہ ، سجدۂ سہو کا بیان، جن صورتوں میں سجدۂ سہو ساقط ہوجاتا ہے،  ج:2، ص: 363

فقط واللہ  اعلم


فتوی نمبر : 144204200865

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں