بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

16 صفر 1443ھ 24 ستمبر 2021 ء

دارالافتاء

 

سجدہ سہو کے بعد تشہد کے بجائے سورہ فاتحہ پڑھنے کا حکم


سوال

ایک بار سجدہ سہو کے بعد آخری قعدہ میں سورہ فاتحہ پڑھنے سے دوبارہ سجدہ سہو لازم ہوتا ہے؟

جواب

پوری نماز میں ایک دفعہ سجدہ سہو کرنے سے تمام غلطیوں کی تلافی ہوجاتی ہے، یعنی اگر ایک سے زیادہ واجب چھوٹے ہوں تو  ایک ہی دفعہ سجدہ سہو کے دو سجدے کرنا ان سب کی طرف سے کافی ہوجاتا ہے، بلکہ فقہاء نے لکھا ہے  کہ سجدہ سہو کرنے کے بعد بھی اگر کوئی واجب چھوٹ جائے یا غلطی ہوجائے تو پہلے کیا ہوا سجدہ سہو اس کے لیے بھی کافی ہے، لہٰذا صورتِ مسئولہ میں اگرچہ سجدۂ سہو کرنے کے بعد متصلاً  تشہد پڑھنا واجب تھا اور  تشہد سے پہلے یا تشہد کی جگہ سورہ فاتحہ پڑھنے کی وجہ سے اس واجب میں تاخیر یا واجب کا ترک لازم آیا، لیکن اس غلطی کی وجہ سے دوبارہ سجدہ سہو لازم نہیں ہوگا، بلکہ پہلے کیا ہوا سجدہ سہو اس غلطی کی طرف سے بھی کافی ہوجائے گا۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (2/ 78):

" و) يجب أيضًا (تشهد وسلام)؛ لأنّ سجود السهو يرفع التشهد دون القعدة لقوتها، بخلاف الصلبية فإنها ترفعهما، وكذا التلاوية على المختار؛ ويأتي بالصلاة على النبي صلى الله عليه وسلم والدعاء في القعود الأخير في المختار، وقيل فيهما احتياطًا.

(قوله: يرفع التشهد) أي قراءته. حتى لو سلم بمجرد رفعه من سجدتي السهو صحت صلاته ويكون تاركًا للواجب، وكذا يرفع السلام، إمداد".

الفتاوى الهندية (1/ 125):

"وكيفيته أن يكبر بعد سلامه الأول ويخر ساجدًا ويسبح في سجوده، ثم يفعل ثانيًا كذلك، ثم يتشهد ثانيًا، ثم يسلم، كذا في المحيط.
ويأتي بالصلاة على النبي صلى الله عليه وسلم والدعاء في قعدة السهو هو الصحيح، وقيل: يأتي بهما في القعدة الأولى، كذا في التبيين. والأحوط أن يصلي  في القعدتين، كذا في فتاوى قاضي خان".

الفتاوى الهندية (1/ 130):

"السهو في سجود السهو لايوجب السهو؛ لأنه يتناهى، كذا في التهذيب. ولو سها في سجود السهو عمل بالتحري ولو سها في صلاته مرارًا يكفيه سجدتان، كذا في الخلاصة\".

البحر الرائق شرح كنز الدقائق ومنحة الخالق وتكملة الطوري (2/ 100):

"ولكون سجود السهو لايتكرر لو شك في سجود السهو فإنه يتحرى ولايسجد لهذا السهو، وحكي أن محمد بن الحسن قال للكسائي ابن خالته: فلم لاتشتغل بالفقه؟ فقال: من أحكم علمًا فذلك يهديه إلى سائر العلوم، فقال محمد - رحمه الله -: أنا ألقي عليك شيئًا من مسائل الفقه فتخرج جوابه من النحو، فقال: هات! قال: فما تقول فيمن سها في سجود السهو؟ فتفكر ساعةً فقال: لا سجود عليه، فقال: من أي باب من النحو خرجت هذا الجواب؟ فقال: من باب أن المصغر لايصغر، فتحيّر من فطنته". 

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144209201195

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں