بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

9 صفر 1443ھ 17 ستمبر 2021 ء

دارالافتاء

 

سائرن  کے بعد اذان سے پہلے پانی پینا کیسا ہے؟


سوال

سائرن  کے بعد اذان سے پہلے پانی پینا کیسا ہے؟

جواب

واضح رہے کہ سحری کا وقت صبح صادق تک ہوتا ہے اور صبح صادق کے ساتھ  سحری کا وقت ختم ہوجاتا ہے اور فجر کا وقت شروع ہو جاتا ہے، اب اگر فجر کا وقت داخل ہوچکا ہے تو  کھانا پینا جائز نہیں،سائرن تو صبح صادق کے طلوع سے چند گھڑی قبل بجایا جاتا ہے؛ تا کہ کھانے پینا بند کر دیا جائے، بہرحال اصل مدار وقت پر ہے:

﴿ كُلُوْا وَ اشْرَبُوْا حَتّٰی يَتَبَيَّنَ لَكُمُ الْخَيْطُ الْاَبْيَضُ مِنَ الْخَيْطِ الْاَسْوَدِ مِنَ الْفَجْرِ ثُمَّ اَتِمُّوا الصِّيَامَ اِلَی الَّيْلِ ﴾ (البقرة:187)

اب عام طور پر مساجد میں روزہ بند کرنے لیے جو سائرن بجایا جاتا ہے وہ صبح صادق سے چند گھڑی قبل بجایا جاتا ہے؛ اس لیے سائرن کے بعد کھانا پینا احتیاط کے خلاف ہے، سائرن بجنے کے ساتھ  ہی کھانا پینا بند کر دینا چاہیے، لیکن اگر کسی مسجد میں سائرن صبح صادق سے کافی دیر پہلے بجا دیا جاتا ہو تو اس کے بعد کھانے پینے کی اجازت ہو گی جب تک صبح صادق طلوع نہ ہو جائے۔

لیکن اذان دینے میں کبھی تاخیر بھی ہو جاتی ہے،  یعنی وقت داخل ہونے کے دو تین منٹ بعد اذان دی جاتی ہے؛ اس لیے اذان تک کھاتے پیتے رہنا احتیاط کے خلاف ہو گا، سائرن کی آواز سن کر کھانا پینا روک دینا قرینِ قیاس ہے۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144109200978

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں