بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

15 محرم 1446ھ 22 جولائی 2024 ء

دارالافتاء

 

سائنسدانوں کا آدم علیہ السلام سے پہلے انسانوں کے وجود کا دعوی/ آدم علیہ السلام کے بعد شرک اوردیگرمذاہب کیسے وجود میں آئے؟


سوال

1- الحمدللہ  ہمارا عقیدہ ہے کہ اللہ تعالی  ایک ہے، وہ ہر چیز پر قادر ہے، اور اسی نے یہ پوری کائنات،  جنات، اورانسان اور جوکچھ اس کائنات میں ہے اس کو تخلیق کیا ،تو سائنس کو جو آثار ِقدیمہ سے آثار ملتے ہیں،جس کی بنیاد پر وہ کہتے ہیں کہ آدم علیہ السلام سے پہلے بھی دنیا میں انسان تھے، تو وہ ایسا کیوں کہتے ہیں؟

2- جب آدم علیہ السلام اللہ تعالی کو ایک مانتے تھے، تو ان کی اولاد میں شرک کیونکر پھیلا ،اور باقی مذاہب کیسے پھیلے؟

جواب

1- واضح رہے کہ مسلمان کی شان ایسی ہونی چاہیے کہ جو کچھ قرآن وحدیث میں آئے وہ اس کو من وعن مانے،اور اس کو ہی حتمی اور یقینی تحقیقی سمجھے، اور بلاوجہ تشکیک اور الحاد پھیلانے والوں کی تحقیقات کو نہ تو پڑھے، اور نہ ہی سنے، بلکہ بامقصد  امور میں وقت کے قیمتی لمحات گزارنے کی سعی وکوشش کرے۔

اس تمہید کے بعد یہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ قرآن وحدیث کے بے شمار نصوص بڑی صراحت کے ساتھ یہ اعلان کرتی ہیں کہ نوعِ انسانی کے سب سے پہلے فرد آدم علیہ السلام ہیں،آدم علیہ السلام ہی ابوالبشر ہیں،اس واضح اعلان کے بعد  محققین یاسائنسدانوں کے بدلتے ہوئے اندازوں کی کوئی حیثیت نہیں، جوکہ کسی ٹھوس حقیقت پر مبنی نہ ہونے کی بناء پر کسی وقت بھی بدل سکتے ہیں۔

2- یہ بات کسی مسلمان سے مخفی نہیں کہ شیطان انسان کا ازلی دشمن ہے، وہ انسان کو اللہ کا نافرمان بنانے کے لیے ہر وقت کوشش میں لگارہتاہے، چنانچہ حضرت آدم علیہ السلام حضرت شیث علیہ السلام تک انسان توحید پر برقرار تھے ان کے بعد آہستہ آہستہ بگاڑ شروع ہوا ، حضرت نوح علیہ السلام کی بعثت سے کچھ عرصہ قبل  شیطان نےلوگوں کے دلوں میں یہ وسوسہ ڈال دیاکہ وہ حضرت آدم اور حضرت نوح علیہما السلام کے درمیانی زمانے کے بزرگ ہستیوں کی صورتیں بنائیں، تاکہ اُن کو سامنے دیکھتے ہوئےعبادت میں رغبت رہے، اور بھلے وہ عبادت اللہ تعالی کی کرتے رہیں، اور انہوں نے ایساہی کیا،لیکن اُن لوگوں کے مرنے کے بعد،نئی نسل نے یہی سمجھاکہ ہمارے آباء واجداد اسی صورتوں اور مورتیوں کی عبادت کرتے تھے، تو انہوں نے اُس کی عبادت شروع کردی،اور اس طریقہ سے شرک سلسلہ جاری ہوا، اور آج تک اس کا  یہ سلسلہ جاری ہے۔

تفسیرِ کبیر میں ہے:

"وأما الإنس فلا شك أن لهم والدا هو والدهم الأول، وإلا لذهب إلى ما لا نهاية والقرآن دل على أن ذلك الأول هو آدم صلى الله عليه وسلم على ما قال تعالى في هذه السورة إن مثل عيسى عند الله كمثل آدم خلقه من تراب ثم قال له كن فيكون [آل عمران: 59] وقال: يا أيها الناس اتقوا ربكم الذي خلقكم من نفس واحدة وخلق منها زوجها [النساء: 1]."

(١٩٩/٨، ط:دار إحياء التراث العربي - بيروت)

تفسیرِ البغوی میں ہے:

"{وإذ قال ربك للملائكة إني جاعل في الأرض خليفة قالوا أتجعل فيها من يفسد فيها ويسفك الدماء ونحن نسبح بحمدك ونقدس لك قال إني أعلم ما لا تعلمون ‌‌(30) }...{إني جاعل} خالق. {في الأرض خليفة} أي بدلا منكم ورافعكم إلي، فكرهوا ذلك لأنهم كانوا أهون الملائكة عبادة.والمراد بالخليفة هاهنا آدم سماه خليفة لأنه خلف الجن أي جاء بعدهم وقيل لأنه يخلفه غيره والصحيح أنه خليفة الله في أرضه لإقامة أحكامه وتنفيذ وصاياه."

(٧٩/١، ط:دار طيبة للنشر والتوزيع)

بخاری شریف کی حدیث ہے:

"عن ‌أبي هريرة رضي الله عنه قال «كنا مع النبي صلى الله عليه وسلم في دعوة فرفع إليه الذراع وكانت تعجبه فنهس منها نهسة وقال أنا سيد القوم يوم القيامة هل تدرون بمن يجمع الله الأولين والآخرين في صعيد واحد فيبصرهم الناظر ويسمعهم الداعي وتدنو منهم الشمس فيقول بعض الناس: ألا ترون إلى ما أنتم فيه إلى ما بلغكم ألا تنظرون إلى من يشفع لكم إلى ربكم فيقول بعض الناس: أبوكم آدم فيأتونه فيقولون: يا آدم أنت ‌أبو ‌البشر خلقك الله بيده ونفخ فيك من روحه وأمر الملائكة فسجدوا لك وأسكنك الجنةالخ."

(كتاب أحاديث الأنبياء، ١٣٤/٤، ط:السلطانية)

سننِ ترمذی میں ہے:

"عن أبي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم، قال: «لينتهين أقوام يفتخرون بآبائهم الذين ماتوا إنما هم فحم جهنم، أو ليكونن أهون على الله من الجعل الذي يدهده الخراء بأنفه، إن الله أذهب عنكم عبية الجاهلية وفخرها بالآباء، إنما هو مؤمن تقي وفاجر شقي، ‌الناس ‌كلهم ‌بنو ‌آدم وآدم خلق من تراب» وفي الباب عن ابن عمر، وابن عباس: «وهذا حديث حسن»."

(أبواب المناقب، ٧٣٤/٥، ط:شركة مكتبة ومطبعة مصطفى البابي الحلبي)

علامہ شوکانی رحمہ اللہ نے فتح القدیر میں لکھاہے:

"‌ولا ‌تذرن ‌ودا ‌ولا ‌سواعا ‌ولا ‌يغوث ‌ويعوق ‌ونسرا أي: لا تتركوا عبادة هذه. قال محمد بن كعب: هذه أسماء قوم صالحين كانوا بين آدم ونوح، فنشأ بعدهم قوم يقتدون بهم في العبادة، فقال لهم إبليس: لو صورتم صورهم كان أنشط لكم وأشوق إلى العبادة، ففعلوا، ثم نشأ قوم من بعدهم فقال لهم إبليس: إن الذين من قبلكم كانوا يعبدونهم فاعبدوهم، فابتداء عبادة الأوثان كان من ذلك الوقت، وسميت هذه الصور بهذه الأسماء لأنهم صوروها على صورة أولئك القوم. وقال عروة بن الزبير وغيره: إن هذه كانت أسماء لأولاد آدم، وكان ود أكبرهم. قال الماوردي:فأما ود فهو أول صنم معبود، سمي ودا لودهم له."

(سورة نوح، ٣٦٠/٥، ط:دار ابن كثير)

فیض الباری میں ہے:

"حدثنا إبراهيم بن موسى أخبرنا هشام عن ابن جريج وقال عطاء عن ابن عباس - رضى الله عنهما - ‌صارت ‌الأوثان ‌التى ‌كانت ‌فى ‌قوم ‌نوح ‌فى ‌العرب ‌بعد، أما ود كانت لكلب بدومة الجندل، وأما سواع كانت لهذيل، وأما يغوث فكانت لمراد ثم لبنى غطيف بالجرف عند سبا، وأما يعوق فكانت لهمدان، وأما نسر فكانت لحمير، لآل ذى الكلاع. أسماء رجال صالحين من قوم نوح، فلما هلكوا أوحى الشيطان إلى قومهم أن انصبوا إلى مجالسهم التى كانوا يجلسون أنصابا، وسموها بأسمائهم ففعلوا فلم تعبد حتى إذا هلك أولئك وتنسخ العلم عبدت. حاصله أن تلك الأوثان التي كانت في قوم نوح عليه السلام وصلت بعينها إلى العرب.

قلت: ولا بعد فيه، لأن نوحا عليه الصلاة والسلام كان في العراق، وهي كانت تحت مملكة العرب، ويقال لها: عراق العرب، فلا عجب منه. ويؤيده أن عمرو بن لحي الذي هو أعلأل من سن عبادة الأوثان في العرب، كان جاء بوثن من العراق، وكان اسمه هبل؛ والظاهر أن العرب هم الذين كانوا نحتوا هذه الأصنام، لا أنها انتقلت من العراق إليهم، غير أنهم نحتوها للمقاصد التي قصدها أهل العراب، وذلك لأنا نجد في أهل الهند أيضا أصناما على تلك الأسامي بعينها، وراجع لها «ترجمة القرآن» للمولوي، فيروز الذين الدسكوي، فإنه قد ذكر فيها أسماءها بالهندية."

(سورة سأل سائل، ٤٣٥/٥، ط:دار الكتب العلمية بيروت)

معالم العرفان میں ہے:

"مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر حضرت نوح علیہ السلام سے کچھ عرصہ پہلے تک لوگ عقیدہ توحید پر قائم تھے، اس دوران حضرت شیث علیہ السلام اور ادریس علیہ السلام بھی گزرے ہیں لیکن لوگوں میں کوئی اختلاف نہیں تھا، پھر نوح علیہ السلام کے زمانہ میں شرک کا سلسلہ شروع ہوا، اور پھر ان مشرکین کو سزابھی ملی، اور وہ سب کے سب طوفان میں غرق ہوگئے۔"

(سورۃ الھود، 90/10، مکتبہ دروس القرآن)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144505100186

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں