بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

15 ذو القعدة 1445ھ 24 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

صاحب ترتیب کی ایک نماز قضاء ہو جائے پھر چھ نمازوں تک اس کو قضاء نہ کرے تو اس صورت کا حکم


سوال

ایک صاحبِ ترتیب شخص (جس پر بلوغت کے بعد سے اس کے گمان کے مطابق کوئی فرض یا واجب نماز باقی نہیں) کی بروز اتوار فجر کی نماز رہ گئی اور اس نے اب تک قضا نہیں کی تھی کہ ظہر کی نماز کے لیے جب وہ کھڑا ہوا اور نماز شروع کی تو نیت باندھتے ہی اس کو یاد آیا کہ فجر کی نماز باقی ہے، لیکن چوں کہ یہ شخص تین چار ساتھیوں میں امامت کر رہا تھا تو اس نے مناسب نہیں سمجھا کہ نماز توڑی جائے اور ساتھیوں کو اپنے عذر کا بتائے کہ میری فجر باقی ہے، لہذا اس نے اپنی نماز جاری رکھی، پھر اسی طرح اس دن کی عصر، مغرب، عشاء اور اگلے دن فجر کی نماز بھی وقت پر پڑھتا رہا اور ہر نماز میں اس کو اپنی فجر کی نماز کے باقی ہونے کا ذہن میں تھا، یہاں تک پیر کے دن ظہر کی نماز کے بعد اتوار کے دن کی فجر کی قضا نماز ادا کرلی۔ اب پہلا سوال یہ ہے کہ مذکورہ صاحبِ ترتیب شخص کی کون سی نماز درست ہوئی اور کونسی نہیں؟

دوسرا سوال یہ ہے کہ اگر اتوار کے دن کی ظہر کی نماز درست نہیں ہوئی تو جن ساتھیوں نے مذکورہ شخص کی اقتدا میں ظہر کی نماز پڑھی ، ان ساتھیوں کو اطلاع کرنا ضروری ہے؟

جواب

اگر کوئی شخص صاحب ترتیب ہو اور اس کی کوئی نماز قضاء ہو جائے، پھر فوت شدہ نماز قضاء کیے بغیر اگلی چھ نمازیں پڑھ لے تو اس کی ساری نمازیں درست ہو جاتی ہیں، قضاء کرنے کی ضرورت نہیں اور امام بن کر جماعت کرانے کی صورت میں مقتدیوں کو بتانے کی ضرورت بھی نہیں، تاہم نماز کی ادائیگی میں اس طرح تاخیر کرنا جائز نہیں۔

فتاویٰ شامی میں ہے:

"لايلزم الترتيب بين الفائتة والوقتية ولا بين الفوائت إذا كانت الفوائت ستًّا، كذا في النهر. أما بين الوقتيتين كالوتر والعشاء فلايسقط الترتيب بهذا المسقط كما لايخفى."

(کتاب الصلاۃ، باب قضاء الفوائت، جلد: 2، صفحہ: 68، طبع: سعید)

المبسوط للسرخسي ميں هے:

"(رجل ترك صلاة واحدة ثم صلى شهرا وهو ذاكر لها فعليه أن يقضي تلك الصلاة وحدها استحسانا) وإن كان صلى يوما أو أقل من ذلك أعاد ما صلى بعدها في هذه عند أبي حنيفة - رحمه الله تعالى -، وهذه المسألة التي يقال لها واحدة تفسد خمسا، وواحدة تصحح خمسا؛ لأنه إن صلى السادسة قبل الاشتغال بالقضاء صح الخمس عنده، وإن أدى المتروكة قبل أن يصلي السادسة فسد الخمس."

(كتاب الصلاة، باب صلاة المسافر، جلد: 1، صفحه: 244، طبع: دار المعرفة)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144401101562

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں