بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

6 ذو الحجة 1445ھ 13 جون 2024 ء

دارالافتاء

 

صاحب نصاب ہونے کے بعد سال گزرنے سے پہلے زکوٰۃ ادا کرنا


سوال

 ایک شخص شعبان 1443 میں صاحب نصاب ہوا اور اس نے زکوۃ اسی مہینے میں ادا کردی، اب شعبان 1444 میں سال پورا  ہوتا ہے، اب جو نئے سال کی زکوۃ  ہے،  وہ اسی 1444 میں ادا کرنی پڑے گی یا ابھی ایک سال بعد ادا کرنی  ہوگی؟

جواب

صورت مسئولہ میں مذکورہ شخص    شعبان  1443 ھ  کی جس تاریخ کو صاحبِ نصاب ہوا ، اس    کے  ایک قمری سال  مکمل ہونے کے بعد اس پر زکوٰۃ ادا کرنا لازم تھا، تاہم اگر اس نے  صاحب ِ نصاب ہونے کے بعد پیشگی زکوٰۃ ادا کردی تو زکوٰۃ ادا ہوگئی ہے، اب یہ شخص  شعبان 1444 کی اسی تاریخ کو اپنے  قابلِ زکوٰۃ مال کا حساب کرے ، اس حساب کے مطابق اگر   زکوٰۃ کی  مکمل رقم ادا ہوگئی ہے تو اس  پر اس سال مزید زکوٰۃ ادا  کرنا لازم نہیں ہوگا، اور اگر  پیشگی ادائیگی میں کچھ رقم  کم ادا ہوئی اور اس سال  زکوٰۃ زیادہ بن رہی ہو تو  باقی  مقدار زکوٰۃ ادا کرنا لازم ہوگا۔

سنن ابی داؤد  میں ہے:

"عن ‌علي: "أن العباس سأل النبي صلى الله عليه وسلم في ‌تعجيل ‌الصدقة قبل أن تحل،فرخص له في ذلك."

(2/ 32، كتاب الزكاة، باب في تعجيل الزكاة، ط: المطبعة الأنصارية بدهلي- الهند)

فتاوی شامی میں ہے:

"(ولو عجل ذو نصاب) زكاته (لسنين أو لنصب صح) ‌لوجود ‌السبب."

"(قوله: ولو عجل ذو نصاب) قيد بكونه ذا نصاب؛ لأنه لو ملك أقل منه فعجل خمسة عن مائتين ثم تم الحول على مائتين لا يجوز."

(‌‌2/ 293، كتاب الزكاة، ط:سعید)

فقط واللہ أعلم


فتوی نمبر : 144408101539

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں