بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

15 محرم 1446ھ 22 جولائی 2024 ء

دارالافتاء

 

صاحبِ حق اپنا حق وصول کرنے سے پہلے لاپتہ ہو جائے تواس کا حق کیسے ادا کیا جائے؟


سوال

پندرہ سے بیس سال پہلے ایک دوکان سے پانچ سو سے ایک ہزار روپے تک کی کوئی چیز خریدی تھی، اُس وقت پورے پیسے نہیں تھے، دکان دار نے کہا کہ بعد میں دے جانا، بعد میں  جانا نہیں ہوا، اب اتنے سالوں بعد وہ دکان دار نہیں مل رہا، دکان بھی وہاں سے چھوڑ چکا ہے، اب مجھے بڑا احساس ہوتا ہے کہ کیسے ادائیگی کروں؟، اس کے نام کا صدقہ کر دوں یا کیا کروں؟، اس کے ملنے کا بھی کوئی چارہ نہیں، توبہ کے ساتھ صدقہ کروں یا کوئی اور حکم ہے؟ 

جواب

صورتِ مسئولہ میں چونکہ اب   دکان دار بالکل لاپتہ ہے اور اس کے اور اس کے ورثاء کے ملنے کی امید بھی نہیں ہےتو جو رقم آپ کے ذمہ ہے،اتنی رقم آپ دکان دار کو ثواب پہنچانے کی نیت سے   کسی غریب کو صدقہ کردیں، پھر اگر کبھی دکان دار یا اس کے ورثاء آپ سے ملیں اور آپ سے اس رقم کا مطالبہ کریں تو اگر  وہ اس رقم کے صدقہ کرنے پر راضی ہوں تو ٹھیک، ورنہ اتنی رقم آپ دکان دار یا اس کے ورثاءکو ادا کردیں۔

فتاویٰ شامی میں ہے:

"(عليه ديون ومظالم ‌جهل ‌أربابها وأيس) من عليه ذلك (من معرفتهم فعليه التصدق بقدرها من ماله وإن استغرقت جميع ماله) هذا مذهب أصحابنا لا تعلم بينهم خلافا كمن في يده عروض لا يعلم مستحقيها اعتبارا للديون بالأعيان (و) متى فعل ذلك (سقط عنه المطالبة) من أصحاب الديون."

"(قوله: ‌جهل ‌أربابها) يشمل ورثتهم، فلو علمهم لزمه الدفع إليهم؛ لأن الدين صار حقهم. وفي الفصول العلامية: من له على آخر دين فطلبه ولم يعطه فمات رب الدين لم تبق له خصومة في الآخرة عند أكثر المشايخ؛ لأنها بسبب الدين وقد انتقل إلى الورثة. والمختار أن الخصومة في الظلم بالمنع للميت، وفي الدين للوارث. قال محمد بن الفضل: من تناول مال غيره بغير إذنه ثم رد البدل على وارثه بعد موته برئ عن الدين وبقي حق الميت لظلمه إياه، ولا يبرأ عنه إلا بالتوبة والاستغفار والدعاء له. اهـ. (قوله: فعليه التصدق بقدرها من ماله) أي الخاص به أو المتحصل من المظالم. اهـ. ط وهذا إن كان له مال. وفي الفصول العلامية: لو لم يقدر على الأداء لفقره أو لنسيانه أو لعدم قدرته قال شداد والناطفي رحمهما الله تعالى: لا يؤاخذ به في الآخرة إذا كان الدين ثمن متاع أو قرضا، وإن كان غصبا يؤاخذ به في الآخرة، وإن نسي غصبه، وإن علم الوارث دين مورثه والدين غصب أو غيره فعليه أن يقضيه من التركة، وإن لم يقض فهو مؤاخذ به في الآخرة، وإن لم يجد المديون ولا وارثه صاحب الدين ولا وارثه فتصدق المديون أو وارثه عن صاحب الدين برئ في الآخرة."

(كتاب اللقطة، ج:4، ص:283، ط:سعيد)

وفیہ ایضاً:

"فإن الديون تقضى بأمثالها فيثبت للمديون بذمة الدائن مثل ما للدائن بذمته فيلتقيان قصاصًا."

(كتاب الشركة، مطلب في قبول قوله دفعت المال بعد موت الشريك أو الموكل،ج:4،ص:320،ط: سعید)

فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144501101031

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں