بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 26 مئی 2020 ء

دارالافتاء

 

صاحبِ نصاب کب بنتا ہے؟


سوال

صاحبِ نصاب ہونے کے لیے کتنا مال ہونا ضروری ہے؟  (روپیہ میں جواب طلب ہے)

جواب

اگر کسی عاقل بالغ مسلمان کے پاس صرف سونا ہو تو اس کا نصاب ساڑھے سات تولہ سونا ہے اور اگر چاندی ہے تو  نصاب ساڑھے باون تولہ چاندی ہے، اگر سونا اور چاندی دونوں کچھ کچھ ہوں، یا ان کے ساتھ مالِ تجارت یا نقدی ہو، یا صرف نقدی یا مال تجارت ہو تو ان سب صورتوں  میں چاندی کے نصاب کو معیار بنایا جائے گا، یعنی ساڑھے باون تولہ چاندی کی جو موجودہ قیمت بنتی ہے اس کے برابر یااس سے زائد نقد رقم یا مال تجارت ہوتو سال گزرنے پر زکاۃ لازم ہے۔چاندی کی موجودہ قیمت کے اعتبار سے رواں سال(یعنی 1441ھ - 2020ء)  46329(چھالیس ہزار تین سو  انتیس) روپے  زکاۃ کے نصاب کے لیے مقرر کیے گیے ہیں ۔فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144109200573

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے