بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 محرم 1446ھ 15 جولائی 2024 ء

دارالافتاء

 

صحت کے لیے سورۃ الرحمن سننے کاحکم


سوال

کیا سورہ رحمٰن سننے سے ہر مسئلہ اور بیماری دور ہوتی ہے اور وہ بھی صرف قاری عبد الباسط عبد الصمد کی آواز میں یا کسی اور قاری کی آواز میں بھی سن سکتے ہیں۔

جواب

 اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک نازل فرمایا اور اس میں شفا رکھی، خود باری تعالیٰ قرآن پاک میں فرماتے ہیں:

وَنُنَزِّلُ مِنَ الْقُرْآنِ ما هُوَ شِفاءٌ وَرَحْمَةٌ لِلْمُؤْمِنِينَ وَلا يَزِيدُ الظَّالِمِينَ إِلاَّ خَساراً(الاسراء: 82)

ترجمہ:  اور ہم ( قرآن میں) ایسی  چیزیں نازل  کرتے ہیں وہ ایمان والوں کے حق میں تو شفااور رحمت ہیں اور ناانصافوں کو   اس سے الٹا نقصان بڑھتا ہے۔(بیان القرآن )

قرآن پڑھنے  کو سودمند تجارت قرار دیا گیا ہے:

(إِنَّ الَّذِينَ يَتْلُونَ كِتَابَ اللَّهِ وَأَقَامُوا الصَّلَاةَ وَأَنفَقُوا مِمَّا رَزَقْنَاهُمْ سِرًّا وَعَلَانِيَةً يَرْجُونَ تِجَارَةً لَّن تَبُورَ)[فاطر: 29]

ترجمہ: جولوگ کتاب اللہ کی تلاوت (مع العمل ) کر تے رہتے ہیں  اور نماز کی پابند ی کر تے ہیں  اور جو کچھ ہم نے ان کو عطا فرمایا ہے اس میں  پوشیدہ اور اعلا نیہ خرچ  کرتے رہتے ہیں  وہ ایسی تجارت کے امید وار ہیں جو کبھی ماند نہ  ہو گی ۔( بیان القرآن )

اسی طرح صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین بھی قرآن سے اپنی بیماریوں کا علاج کیا کرتے تھے، ایک مرتبہ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کے پاس سانپ کے ڈسے کو لایا گیا، آپ نے سورۃ فاتحہ پڑھ کر اس پر پھونک دی، اس کو صحت ہو گئی، بعد میں آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں یہ واقعہ لایا گیا تو آپ نے تصویب فرمائی، لہذا قرآن سے شفا حاصل ہونا یا کرنا کوئی قابلِ تعجب امر نہیں۔

بہتر یہ ہے کہ خود کلامِ مجید پڑھا جائے، جو شخص بھی قرآنِ پاک کو اللہ تعالیٰ کی ذات پر یقین کے ساتھ  پڑھے تو ان شاء اللہ باری تعالیٰ اسے شفا عطا فرمائیں گے۔ اور اگر خود نہیں پڑھ سکتے تو کسی صحیح قراءت کرنے والے شخص سے تلاوت کرواکر دم کروا سکتے ہیں، یا اس کی تلاوت سن سکتے ہیں، اس کے لیے کسی خاص قاری کی آواز ہونا ضروری نہیں ہے۔

 وفی النکت والعیون میں ہے :
قوله عز وجل: {وننزل من القرآن ما هو شفاءٌ ورحمةٌ للمؤمنين} يحتمل ثلاثة أوجه: أحدها: شفاء من الضلال ، لما فيه من الهدى. ‌الثاني: ‌شفاء ‌من ‌السقم ، لما فيه من البركة. الثالث: شفاء من الفرائض والأحكام ، لما فيه من البيان
(268/3، مطبوعہ: دارالکتب العلمیة، بیروت)
فقط واللہ اعلم 


فتوی نمبر : 144508100200

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں