بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

15 محرم 1446ھ 22 جولائی 2024 ء

دارالافتاء

 

صحابہ کی شان میں گستاخی پرتوبہ کاحکم


سوال

ایک عورت سے اس کی ماضی کی غفلت بھری زندگی میں یہ کلمات کفر صادر ہوئے:حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کیا پاگل تھے، جو انہوں نے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی بات مان کر اسلام قبول کر کے نمازیں پڑھیں؟ اب ان کی وجہ سے ہمیں نمازیں پڑھنی پڑتی ہیں، یا پھر یہ کہا تھا :کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ  کیا پاگل تھے جو انہوں نے نمازیں پڑھیں ؟اب ان کی وجہ سے ہمیں نمازیں پڑھنی پڑتی ہیں (معاذاللہ)یہ اس کو صحیح سے یاد نہیں، کیوں کہ یہ اس نے 9 یا 10 سال کی عمر میں نابالغی میں بولا تھا ،اوروضو کے بغیر نمازیں بھی پڑھیں، پھر  اللہ نے اس کو توبہ کی توفیق دی، اور اس نے ان الفاظ سے توبہ کی:اے اللہ!میرے سے آج تک جتنے بھی کفریہ و شرکیہ الفاظ،جملے اور عمل جانے انجانے میں صادر ہوئے ہیں، جو مجھے یاد ہیں اور جو یاد نہیں، میں ان تمام سے دل سے نفرت کرتی ہوں، اور آپ کی بارگاہ میں ان تمام سے دل سے توبہ کرتی ہوں، آئندہ احتیاط کروں گی، اے اللہ !مجھے معاف کر دیجئے ،میں آپ کو ایک مانتی ہوں، اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو آخری نبی مانتی ہوں، اور جتنے بھی ضروریات دین ہیں ،ان تمام پر ایمان لاتی ہوں ،اور دین اسلام کے علاوہ تمام مذاہب سے نفرت کرتی ہوں ،پھر کلمہ شہادت پڑھ کہ ایمان مفصل پڑھ لی،

تو کیا: 1)مذکورہ الفاظ سے توبہ کرنے سے، وہ دائرہ اسلام میں داخل ہو گئی یا اس کو کن الفاظ سے توبہ کرنی چاہئے؟

2)کیا اس کا یہ جملہ گستاخی پر مشتمل ہے اور کیا اس وجہ سے اس پر حد سزا جو کہ قتل ہے بنتی ہے؟

3)اور اگر اس کا یہ جملہ گستاخی پر مشتمل ہے ،اور وہ معاملہ قاضی یا حاکم کے پاس پہنچنے سے پہلے توبہ کر چکی ہے، تو کیا اس صورت میں اگر اس کے توبہ کرنے کے باوجود اس پر کیس کیا جائے ،تو کیا یہ غلط ہو گا؟

4)اگر یہ جملہ گستاخانہ ہے، اور اس نے یہ جملہ بلوغت کے بعد کہا ہوتا،تو کیا تب بھی ایسے توبہ کرنےسے وہ دائرہ اسلام میں داخل ہو جاتی ؟(یہ صرف دینی معلومات کیلئے پوچھا ہے)

5)آپ کے جوابات باقاعدہ فتوی ہوتے ہیں یا معلوماتی جواب؟ اور کیا ہمیں کسی اور سے مسئلہ دوبارہ پوچھنا چاہئے یا اگر ہم آپکے دئیے ہوئے جواب کو ہی فتوی سمجھیں؟

جواب

مذکورہ الفاظ کے متعلق ایک تو یقین نہیں ہے کہ واقعی کہتے تھے یا نہیں بلکہ شک ہے اور اگر کہے بھی تھے تو نابالغی کا زمانہ تھا ،اس کے باوجود کہنے والی پکی توبہ کرچکی ہے اس لیے شک یا وسوسوں کا شکار نہیں ہونا چاہیے اور اس سے متعلق جو سوالات  پوچھے گئے ہیں ان کی بھی نہ ضرورت ہے اور نہ ہی ان کے متعلق سوچنا چاہیے ۔بس اپنی زندگی شریعت کے مطابق گزاریں اپنے فرائض  انجام دیں اور  منکرات سے بچیں  اور غیر ضروری خیالات میں الجھنے سے گریز فرمائیں۔واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144410100573

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں