بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 شعبان 1445ھ 23 فروری 2024 ء

دارالافتاء

 

صحابہ معیار حق اور مغفور ہیں


سوال

کیا صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین معیار حق ہے نیز معیار حق کی تعریف کیا ہے کیا صحابہ مغفور ہے یا معصوم نیز معصوم اور مغفور میں کیا فرق ہے؟

جواب

"معیار" کا معنٰی ہے:" کسوٹی، جانچنے اور پرکھنے کا آلہ"، معیارِ حق ہونے کا مطلب یہ ہے کہ جس کو دیکھ کر حق اور باطل میں امتیاز ہوجائے اور جس کی اتباع کرنے سے آدمی حق کو پالیتا ہو۔

اہل سنت والجماعت کے نزدیک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے تمام صحابہ معیارِ حق ہیں، صحابہ رضوان  اللہ تعالٰی علیہم اجمعین نے حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے جس قدر دین بر حق سیکھا وہ بعد میں آنے والوں تک بعینہ اسی طرح پہنچایا، اس میں اپنی طرف سےکوئی اضافہ نہیں کیا، کوئی حکم نہیں بدلا، کوئی بات آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف غلط منسوب نہیں کی، جس بات کو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے یہ فرمایاہے کہ یہ حضرت رسولِ مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کاارشاد ہے، وہ بالکل صحیح ہے، اس کو ماننا لازم ہے، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پر اگر اعتماد نہ ہو  اوراُن کو  دین کے نقل کرنے میں معیارِ حق تسلیم نہ کیا جائے، تو پھر سارے دین سے اعتماد ختم ہوجائے گا اور صحیح دین دوسروں تک پہنچنے کی کوئی صورت نہیں رہے گی، کیوں کہ رسول اللہ صلی اللہ  علیہ وسلم اور آپ کی امت کے درمیان واسطہ صحابۂ کرام رضوان اللہ عنہم اجمعین ہیں ، اگر اس واسطہ پر اعتماد نہ رہے اور اس واسطہ کو معیارِ حق تسلیم نہ کیاجائے تو پورا دین جوہمیں اسی  واسطے سے پہنچاہےاس  پر کیسے اعتماد رہے گا۔قرآن کریم میں اللہ تعالٰی  نےصحابۂ کرام رضوان اللہ عنہم کے ایمان کو اور لوگوں کے لیے معیار قرار دیاہے، چناں چہ ارشادِ خداوندی ہے:

"فَإِنْ آمَنُوا بِمِثْلِ مَا آمَنْتُمْ بِهِ فَقَدِ اهْتَدَوْا." (البقرة: 137)

ترجمہ: سواگر وہ  بھی اسی طریق سے ایمان لے آئیں  جس طریق سے تم (اہلِ اسلام) ایمان لائے ہو تب تو وہ بھی راہِ حق پر لگ جائیں گے۔

سنن الترمذی میں ہے:

"عن عبد الله بن عمرو، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «ليأتين على أمتي ما أتى على بني إسرائيل ..... وإن بني إسرائيل تفرقت على ثنتين وسبعين ملة، وتفترق أمتي على ثلاث وسبعين ملة، كلهم في النار إلا ملة واحدة»، قالوا: ومن هي يا رسول الله؟ قال: «ما أنا عليه وأصحابي»."

(أبواب الإيمان، باب ماجاء في افتراق هذه الأمة، 26/5، ط: شركة مكبتةو مطبعة مصطفى البابي الحلبي)

"ترجمہ:حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے مروى ہے کہ رسول اکرم صلى اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میری اُمت پر وہ سب کچھ آئے گا، جو بنی اسرائیل پر آچکا ہے...بنی اسرائیل کے بہترفرقے ہوگئے تھے، میری اُمت کے تہتر فرقے ہوجائیں گے، وہ سب دوزخی ہوں گے، سوائے ایک ملت  کے،  صحابہ کرام نے عرض کیا: وہ ملت کون سی ہے؟ ارشاد ہوا "مَا اَنَا عَلَیْہِ وَاَصْحَابِیْ" یہ وہ ملت ہے جس پر میں ہوں اور میرے صحابہ ہیں۔"

نیز صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین معصوم نہیں ہیں، بلکہ مغفور ہیں، یعنی اللہ تعالیٰ  نےتمام صحابہ کرام سے  مغفرت اور جنت کا وعدہ کیا ہے، اور ان کو اپنی رضامندی کا پروانہ دنیا ہی میں دے دیا تھا، تمام صحابہ کرام جنتی ہیں، قرآن  کریم نے اس کی ضمانت دے دی ہے کہ اگر کسی صحابی سے سے بتقاضائے بشریت کوئی گناہ سرز ہوبھی جائے تو توبہ کی توفیق اسے ملے گی یا پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی صحبت و نصرت اور دین کی خدماتِ عظیمہ اور ان کی بے شمار حسنات کی وجہ سے اللہ تعالی ان کو معاف کردے گا ۔ (مستفاد از: معارف القرآن: 299/8)

قرآنِ کریم میں ارشاد ہے:

" لَا يَسْتَوِيْ مِنْكُمْ مَّنْ اَنْفَقَ مِنْ قَبْلِ الْفَتْحِ وَقٰتَلَ ۭ اُولٰئِكَ اَعْظَمُ دَرَجَةً مِّنَ الَّذِيْنَ اَنْفَقُوْا مِنْۢ بَعْدُ وَقٰتَلُوْا ۭ وَكُلًّا وَّعَدَ اللّٰهُ الْحُسْنٰى . ( الحدید:10)"

"ترجمہ: تم میں سے جنہوں نے (مکہ کی) فتح سے پہلے خرچ کیا، اور لڑائی لڑی، وہ (بعد والوں کے) برابر نہیں ہیں۔ وہ درجے میں ان لوگوں سے بڑھے ہوئے ہیں جنہوں نے (فتح مکہ کے) بعد خرچ کیا، اور لڑائی لڑی۔ یوں اللہ نے بھلائی کا وعدہ ان سب سے کر رکھا ہے۔"

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144310100939

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں