بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 ربیع الاول 1442ھ- 21 اکتوبر 2020 ء

دارالافتاء

 

سگے بھائی کی رضاعی بہن سے نکاح کا حکم


سوال

کوئی شخص بچپن میں کسی عورت کا دودھ پیتا ہے، اس عورت کی ایک بچی بھی اس دودھ پینے میں شریک ہے، اب وہ بچی بندہ کی بہن ہوگئی۔ اب اگر ساتھ دودھ پینے والی لڑکی کا اپنے چھوٹے یابڑے سے نکاح کرواسکتا ہوں کہ نہیں؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں مذکورہ شخص (جس نے کسی عورت کا دودھ پیاہے) کے لیے مذکورہ دودھ پلانے والی عورت کی بیٹی رضاعی بہن ہیں، یہ شخص اپنی کسی بھی رضاعی بہن سے نکاح نہیں کرسکتا۔ البتہ اس شخص کے (اگر سوال میں اپنے چھوٹے یا بڑے سے مراد بھائی ہے تو ) دیگر چھوٹے یا بڑے بھائی جو دودھ پینے میں شریک نہیں ہیں، ان کا نکاح دودھ پلانے والی عورت کی بیٹی سے درست ہے۔

اور اگر سوال سے مقصود اس کے علاوہ ہے تو وضاحت کے بعد دوبارہ دریافت کرلیں۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (3/ 217):
(وتحل أخت أخيه رضاعاً) يصح اتصاله بالمضاف كأن يكون له أخ نسبي له أخت رضاعية، وبالمضاف إليه كأن يكون لأخيه رضاعاً أخت نسباً وبهما وهو ظاهر.

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144201200934

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں