بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

20 صفر 1443ھ 28 ستمبر 2021 ء

دارالافتاء

 

سفر میں نمازیں جمع کرنا


سوال

 میں اکثر سفر میں ہوتا ہوں، میرے ساتھی ظہر اورعصر کی نماز ایک ساتھ پڑھ لیتے ہیں (مقامی باشندے)۔ میں کیا کروں؟ ہمارا اکثر جاری سفر رہتا ہے!

جواب

سفر کے دوران بھی دو نمازوں کو ایک وقت میں جمع کرنے کی اجازت نہیں ہے، البتہ یہ کیا جاسکتا ہے کہ ظہر کی نماز کے آخری وقت میں سفر روک کر باوضو ہوکر ظہرکے آخری وقت میں ظہر پڑھ لے اور پھر جیسے ہی ظہر کا وقت ختم ہو عصر اول وقت میں پڑھ لے، اسی طرح مغرب اور عشاء میں بھی کرلے، اس طریقے میں وقت بھی بچ جائے گا اور نمازیں بھی شریعت کے مطابق وقت پر ادا ہو جائیں گی۔

مزید تفصیل کے لیے درج ذیل لنک پر فتویٰ ملاحظہ کیجیے:

دورانِ سفر دو نمازوں کو ایک وقت میں پڑھنے کا حکم

قرآن کریم میں ہے:

{إن الصلاة كانت على المؤمنين كتابا موقوتا}[النساء: 103)  

الفتاوى الهندية میں ہے:

"هذا في الأزمنة كلها ولا يجمع بين الصلاتين في وقت واحد لا في السفر ولا في الحضر بعذر ما عدا عرفة والمزدلفة. كذا في المحيط".

(کتاب الصلاۃ، الباب الأول ... الفصل الثالث ... (1/52) ط: دار الفکر)

فقط و الله أعلم


فتوی نمبر : 144201201345

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں