بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

4 ربیع الاول 1444ھ 01 اکتوبر 2022 ء

دارالافتاء

 

سفر عرفی (یعنی مسافت شرعی سے کم والے سفر) کی وجہ سے روزہ چھوڑنے کا حکم


سوال

ایک شخص نے فجر اپنے گھر پر ادا کی، فجر کے بعد اس کا سفر کا ارادہ تھا،اس نے سن رکھا تھا کہ سفر میں روزہ چھوڑ  سکتے ہیں؛ لہذا اس نے روزہ نہیں رکھا؛ کیوں کہ  گرمی بھی تھی۔ اب درست مسئلے کا علم ہوا تو پتہ چلا وہ سفر 'شرعی سفر' نہیں تھا، بلکہ تقریباً 60 کلومیٹرز تھا، اس صورتِ حال میں صرف قضا لازم آئے گی یا کفارہ بھی؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں چوں کہ مذکورہ شخص نے رمضان المبارک میں روزہ رکھ کر توڑا نہیں ہے، بلکہ شروع سے روزہ رکھا ہی نہیں تھا؛ اس لیے اس پر توبہ و استغفار کے ساتھ صرف اس روزہ کی قضا رکھنا لازم ہے، کفارہ لازم نہیں ہے۔

واضح رہے کہ شرعی عذر (مرض یا سفر شرعی) کے بغیر کسی مکلف شخص کا ایک روزہ چھوڑ دینا اتنا بڑا گناہ ہے کہ حدیث مبارک کے مطابق اگر ساری زندگی بھی روزے رکھ لے تب بھی وہ ثواب حاصل نہیں ہوسکتا جو رمضان المبارک کے اس دن روزہ رکھنے پر ثواب دیا جاتا، اس لیے یہ نہیں سمجھنا چاہیے کہ روزہ نہ رکھنے کی صورت میں شاید گناہ کی شدت کم ہوجاتی ہے ، اس لیے کفارہ لازم نہیں ہوتا، بلکہ روزہ نہ رکھنا بڑا گناہ ہے، اور کسی مسلمان سے یہ تصور نہیں ہوسکتا کہ وہ رمضان المبارک کا روزہ بغیر عذر ترک کرے۔

نیز یہ بھی ملحوظ  رہے کہ سفر میں روزہ چھوڑنے کی یا روزہ رکھ کر توڑنے کی اس وقت اجازت ہے، جب کہ صبح صادق ہونے سے پہلے سفر شروع کردے یا سفر پہلے سے جاری ہو، اگر کوئی شخص اپنے رہائشی علاقے میں ہو اور وہیں فجر کا وقت داخل ہوجائے تو اس کے لیے روزہ چھوڑنا درست نہیں ہے، اگرچہ اسی دن میں سفر کا ارادہ ہو، بلکہ اس شخص پر لازم ہوگا کہ وہ روزہ رکھ کر سفر شروع کرے، اور سفر میں روزہ پورا کرنے  کی کوشش کرے، پھر اگر سفر کے دوران مشقت ناقابلِ برداشت ہوجائے اور روزہ توڑدے تو اس پر کفارہ نہیں ہوگا، صرف قضا لازم ہوگی۔ 

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (2/ 403):

"(أو أصبح غير ناو للصوم فأكل عمداً) و لو بعد النية قبل الزوال لشبهة خلاف الشافعي: ومفاده أن الصوم بمطلق النية كذلك ... (قضى) ... (فقط)."

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144209202252

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں