بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 محرم 1446ھ 20 جولائی 2024 ء

دارالافتاء

 

صدقے کے ذریعے اللہ سے پیسے کیسے کمائے؟


سوال

الف۔ صدقہ کرکے اللہ سے پیسے کیسے کمائے؟اور دنیا میں بدلہ ملے اور آخرت میں بھی ملے؟ اور صدقہ سے اللہ کتنے گنا واپس  دے گا؟

 ب۔ حضرت عثمان غنی رضی اللّٰہ عنہ کی تجارت کا صحیح طریقے بتادیں؟

 ج۔ کامیابی پانے کے لیے کیا نیت ہونی  چاہیے؟ جس نیت سے  اللہ تعالی فوراً  کامیابی دیں ؟

جواب

1۔واضح رہے  کہ اگر خلوص نیت  اور حلال آمدن سے  صدقہ کیا جاۓ ،تو اللہ تبارک  وتعالی دنیا و آخرت دونوں جہانوں میں اپنی شان کے مطابق بدلہ عطافرماتے ہیں، البتہ  قرآن کریم میں  مقبول صدقے کی شرائط کے مطابق  کسی بھی  چیز کے  صدقے کے بدلے    سات سو  گنا  بدلے  کا  ذکر   کرکے اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ اور اللہ بڑھاچڑھا کر دیتا ہے جسے چاہتا ہے، یعنی اِخلاص سے دیے ہوئے صدقے کا بدلہ محض سات سو گنا تک محدود نہیں ہے، بلکہ اس سے بھی بہت زیادہ  اللہ تعالیٰ جتنا چاہیں عطا فرماتے ہیں؛ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ وسعتوں والے ہیں، اور علم والے ہیں کہ کسے زیادہ بدلہ دینا ہے اور کسے  کم، سب اللہ تعالیٰ کے علم میں ہے۔

قرآن کریم میں ہے:

"{ مَثَلُ الَّذِينَ يُنْفِقُونَ أَمْوَالَهُمْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ كَمَثَلِ حَبَّةٍ أَنْبَتَتْ سَبْعَ سَنَابِلَ فِي كُلِّ سُنْبُلَةٍ مِائَةُ حَبَّةٍ وَاللَّهُ يُضَاعِفُ لِمَنْ يَشَاءُ وَاللَّهُ وَاسِعٌ عَلِيمٌ َ , الَّذِينَ يُنْفِقُونَ أَمْوَالَهُمْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ثُمَّ لَا يُتْبِعُونَ مَا أَنْفَقُوا مَنًّا وَلَا أَذًى لَهُمْ أَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ وَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ" [البقرة: 261، 262]

ترجمہ:"جو لوگ الله کی راہ میں اپنے مالوں کو خرچ کرتے ہیں ان (کے خرچ کیے ہوئے مالوں) کی حالت ایسی ہے جیسے ایک دانہ کی حالت جس سے (فرض کرو) سات بالیں جن میں ( اور ) ہر بال کے اندر سو دانے ہوں اور یہ افزونی خدا تعالیٰ جس کو چاہتا ہے عطا فرماتا ہے اور الله تعالیٰ بڑی وسعت والے ہیں جاننے والے ہیں ۔جو لوگ اپنا مال الله کی راہ میں خرچ کرتے ہیں پھر خرچ کرنے کے بعد نہ تو (اس پر) احسان جتلاتے ہیں اور نہ (برتاؤ سے) اس کو آزار پہنچاتے ہیں ان لوگوں کو ان (کے اعمال) کا ثواب ملے گا ان کے پروردگار کے پاس اور نہ ان پر کوئی خطر ہوگا اور نہ یہ مغموم ہونگے ۔ "(بیان القرآن)

مفتی شفیع صاحب رحمہ اللہ نے   مذکورہ آیت کے تحت تفسیر معارف القرآن میں تحریر فرمایا ہے:

"اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کی ایک مثال :
پہلی آیت میں ارشاد فرمایا ہے کہ جو لوگ اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں یعنی حج میں یا جہاد میں یا فقراء ومساکین اور بیواؤں اور یتیموں پر یا بہ نیت امداد اپنے عزیزوں دوستوں پر اس کی مثال ایسی ہے جیسے کوئی شخص ایک دانہ گیہوں کا عمدہ زمین میں بوئے اس دانہ سے گیہوں کا ایک پودا نکلے جس میں سات خوشے گیہوں کے پیدا ہوں اور ہر خوشے میں سو دانے ہوں جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ایک دانہ سے سات سو دانے حاصل ہوگئے۔
مطلب یہ ہوا کہ اللہ کی راہ میں خرچ کرنے والے کا اجروثواب ایک سے لے کر سات سو تک پہنچتا ہے ایک پیسہ خرچ کرے تو سات سو پیسوں کا ثواب حاصل ہوسکتا ہے۔
صحیح ومتعبر احادیث میں ہے کہ ایک نیکی کا ثواب اس کا دس گنا ملتا ہے اور سات سو گنے تک پہنچ سکتا ہے۔ حضرت عبداللہ بن عباس (رض) نے فرمایا کہ جہاد اور حج میں ایک درہم خرچ کرنے کا ثواب سات سو درہم کے برابر ہے، یہ روایت ابن کثیر نے بحوالہ مسنداحمد بیان کی ہے۔
الغرض اس آیت نے بتلایا کہ اللہ کی راہ میں ایک روپیہ خرچ کرنے والے کا ثواب سات سو روپے کے خرچ کے برابر ملتا ہے۔
قبولیت صدقات کی مثبت شرائط :
لیکن قرآن حکیم نے اس مضمون کو بجائے مختصر اور صاف لفظوں میں بیان کرنے کے دانہ گندم کی مثال کی صورت میں بیان فرمایا جس میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ جس طرح کاشتکار ایک دانہ گندم سے سات سو دانے اسی وقت حاصل کرسکتا ہے جب کہ یہ دانہ عمدہ ہو خراب نہ ہو اور دانہ ڈالنے والا کاشتکار بھی کاشتکاری کے فن سے پورا واقف ہو اور جس زمین میں ڈالے وہ بھی عمدہ زمین ہو کیونکہ ان میں سے اگر ایک چیز بھی کم ہوگئی تو یا یہ دانہ ضائع ہوجائے گا ایک دانہ بھی نہ نکلے گا اور یا پھر ایسا بارآور نہ ہوگا کہ ایک دانہ سے سات سو دانے بن جائیں ۔
اسی طرح عام اَعمالِ صالحہ اور خصوصاً انفاق فی سبیل اللہ کی مقبولیت اور زیادتی اجر کے  لیے بھی یہی تین شرطیں ہیں کہ جو مال اللہ کی راہ میں خرچ کرے وہ پاک اور حلال ہو؛ کیوں کہ حدیث میں ہے کہ اللہ تعالیٰ پاک اور حلال مال کے سوا کسی چیز کو قبول نہیں فرماتے، دوسرے خرچ کرنے والا بھی نیک نیت اور صالح ہو بدنیتی یا نام ونمود کے لئے خرچ کرنے والا، اس ناواقف کاشتکار کی طرح ہے جو دانہ کو کسی ایسی جگہ ڈال دے کہ وہ ضائع ہوجائے۔
تیسرے جس پر خرچ کرے وہ بھی صدقہ کا مستحق ہو کسی نااہل پر خرچ کرکے ضائع نہ کرے اس طرح اس مثال سے اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کی بہت بڑی فضیلت بھی معلوم ہوگئی اور ساتھ ہی اس کی تین شرطیں بھی کہ مال حلال سے خرچ کرے اور خرچ کرنے کا طریقہ بھی سنت کے مطابق ہو اور مستحقین کو تلاش کرکے ان پر خرچ کرے محض جیب سے نکال ڈالنے سے یہ فضیلت حاصل نہیں ہوتی ۔"

2۔تیسرے خلیفہ نبی کریم ﷺ کے داماد حضرت عثمان رضی اللہ عنہ بہت بڑے تاجر تھے،ان کے والد عفان بھی تاجر تھے، تجارت  کے سلسلے میں ان کے والد مختلف ممالک کا سفر کیا کرتے، یہاں تک کہ شام کی طرف تجارت کا سفر کرتے ہوے ان  کا انتقال ہوگیا، آپ رضی اللہ عنہ  مال مویشی ، غلہ اور کپڑے وغیرہ کی تجارت کیا کرتے تھے، اور نبی کریم ﷺ نے  تجارت کے متعلق جو آداب، طریقے بتلاۓ اور ہدایات دیں تھیں، اسی کے مطابق تجارت   فرمایا کرتے تھے،کیوں کہ صحابہ نبی کریم ﷺ کا کوئی بھی فرمان سنتے تو اسی کے مطابق عمل کیا کرتے تھے،اور اس کے ساتھ ساتھ بہت کثرت سے صدقہ کیا کرتے تھے،لہذا تجارت کے ذریعہ مال کماکر اسلام اور اہل اسلام کی بڑی خدمت کی ، جنگ تبوک کے موقعہ پر تقریبا ایک ہزار اونٹ اور ستر گھوڑے  جہاد کے لیے دیے،اور  بیس ہزار درہم میں ایک یہودی سے "بئر رومہ" خرید کر مسلمانوں کے لیے وقف کیا،نیز   پچیس ہزار درہم میں زمین خرید کر مسجد نبوی کی توسیع فرمائی۔

3۔واضح رہے کہ کسی کام ہونا نہ ہونا  اچھی یا بری نیت پر موقوف نہیں ہے، بلکہ اللہ تعالی کی چاہت پر موقوف ہے، اگر اللہ تعالی چاہےتو ہی  کوئی کام ہوتا ہے، اور اگر اللہ تعالی نہ چاہے تو کوئی بھی کام نہیں ہوتا۔

قرآن کریم میں اللہ تعالی کا ارشاد ہے:

إِنَّ اللَّهَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ .(سورة البقرة:20)

ترجمہ:بے شک اللہ ہرچیز پر قادر ہے۔

اللَّهُ خَالِقُ كُلِّ شَيْءٍ ۖ وَهُوَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ وَكِيلٌ   (سورۃ الزمر:62)

ترجمہ: الله ہی پیدا کرنے والاہے ہر چیز کا اور وہی ہر چیز کا نگہبان ہے۔

"تفسیر الطبری"میں ہے:

"(يَخْلُقُ اللَّهُ مَا يَشَاءُ)يقول: يحدث الله ما يشاء من الخلق(إِنَّ اللَّهَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ)يقول: إن الله على إحداث ذلك وخلقه، وخلق ما يشاء من الأشياء غيره، ذو قدرة لا يتعذّر عليه شيء أراد."

(سورۃ النور،الآیة:45 ، 204/19، ط:دار التربية والتراث)

تاریخ ابن عساکر میں ہے:

 "عكرمة بن إبراهيم البصري قال ‌جهز ‌عثمان ‌جيش ‌العسرة ‌بتسع ‌مائة ‌وثلاثين ‌ناقة وسبعين فرسا ومال فقال النبي صلى الله عليه وسلم بكفه هكذا [يحركها]  ما على عثمان ما عمل بعد هذا."

المعارف  لابن قتیبہ میں ہے:

"كان عفان خرج في تجارة الى الشام فمات هنالك."

(اخبار عثمان بن عفان رضي الله عنه، ص:191، ط: دار المعارف)

فقط والله اعلم


فتوی نمبر : 144502101699

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں