بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

10 ذو القعدة 1442ھ 21 جون 2021 ء

دارالافتاء

 

صدقہ کے لیے جانور قربان کرنا


سوال

کیا صدقہ میں حلال جانور کی قربانی جائز ہے یا بدعت ہے؟

جواب

صدقہ کے بارے میں شریعت نے کوئی ایسی پابندی نہیں لگائی کہ صدقہ کا اسی طرح ادا کرنا ضروری ہو، بلکہ اصول یہ ہے کی جس چیز میں فقراء کا زیادہ  فائدہ ہو وہی چیز بطور صدقہ دینا افضل ہے، عام حالات میں جانور صدقہ کرنے کی بجائے جانور کی قیمت صدقہ کرنے میں  زیادہ فضیلت ہے؛ کیوں کہ نقدی سے فقیر  اپنی ہرقسم کی حاجت پوری کرسکتا ہے، اور جانور صدقہ کرنے میں مصلحت ہو تو اس کی بھی اجازت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں اونٹ وغیرہ  بحالتِ زندہ  صدقہ کرنے کا ثبوت موجود ہے۔

نیز اگر کسی مریض کی شفا یابی کی غرض سے جانور ذبح کرکے صدقہ کیا جارہا ہو  اور جان کے بدلے جان کا عقیدہ ہو تو ایسا صدقہ شرعًا جائز نہیں ہے۔

اس قسم کے ایک سوال کے جواب میں حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں:

’’ ۔۔۔ اگر بطور شکر کے ذبح کرے اس میں دو صورتیں ہیں: ایک یہ کہ خود ذبح مقصود نہیں، بلکہ مقصود اعطاء یا اطعامِ مساکین ہے،  ذبح محض اس کا  ذریعہ ہے سہولت کے لیے اور   علامت اس تصدق کے مقصود ہونے اور ذبح کے مقصود نہ ہونے کی یہ ہے کہ اگر اتنا ہی اور ویسا ہی گوشت کسی دکان سے مل جاوے تو انشراحِ خاطر سے اس پر اکتفا کرے، ذبح کا اہتمام نہ کرے، تب تو یہ ذبح جائز ہے۔  اور دوسری صورت یہ ہے کہ خود ذبح  ہی مقصود ہو اور ذبح ہی کو بخصوصہ طریقہ شکر و قربت سمجھے، سو قواعد سے یہ درست معلوم نہیں ہوتا ۔۔۔   اسی طرح خصوصیت کے ساتھ اکثر عوام، بلکہ ممتاز لوگوں  میں یہ رسم ہے کہ مریض کی طرف سے جانور ذبح کرتے ہیں یا وبا وغیرہ کے دفع کے لیے ایسا ہی کرتے ہیں، سو چوں کہ قرائنِ قویہ سے ان مواقع پر بھی معلوم ہوتا ہے کہ  خود ذبح ہی مقصود ہے اور اسی کو مؤثر فی دفع البلاء خصوصاً مرض کی حالت میں اس ذبیحہ کو من حیث الذبح فدیہ  سمجھتے ہیں، سو اس کا حکم بھی قواعد سے عدمِ جواز معلوم ہوتا ہے‘‘۔

(امداد الفتاوی: ۳/ ۵۷۰)

لہذا اگر مقصود ذبح نہ ہو، بلکہ مقصود صدقہ ہو اور ذبح کر کے گوشت تقسیم کر دیا جائے تو یہ جائز ہے، لیکن اگر مقصود ہی ذبح ہو تو ایسا کرنا جائز نہیں ہو گا، بہرحال! ذبح  کے ساتھ صدقہ کرنے میں جب ایک گونہ شبہ بھی ہے اور نقد رقم سے ضروریات کو پورا کرنا زیادہ آسان بھی ہے؛ اس لیے بہتر یہ ہی ہے کہ نقد رقم سے صدقہ کیا جائے۔   فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144210200910

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں