بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

16 شوال 1445ھ 25 اپریل 2024 ء

دارالافتاء

 

صدقات وایصال ثواب کے پیسوں سے مکتب کے لیے زمین خریدنا


سوال

مکتب کے لئے زمین خریدی گئی ہے، تو کیا اس میں صدقات و ایصالِ ثواب کی رقم لی جاسکتی ہے؟، جب کہ اس کے علاوہ رقم کی ادائیگی کی کوئی صورت نہ ہو؟

جواب

مکتب کے لیے زمین خرید ی گئی ہے تو اس کی رقم ادا کرنے کے لیے صدقاتِ  نافلہ اورایصالِ ثواب کی رقم لی جا سکتی ہے البتہ زکوۃ اور صدقاتِ  واجبہ کی رقم نہیں لی جا سکتی۔

البحر الرائق میں ہے:

"وقيد بالزكاة؛ لأن النفل يجوز للغني كما للهاشمي، وأما بقية الصدقات المفروضة والواجبة كالعشر والكفارات والنذور وصدقة الفطر فلا يجوز صرفها للغني لعموم قوله عليه الصلاة والسلام «لا تحل صدقة لغني» خرج النفل منها؛ لأن الصدقة على الغني هبة كذا في البدائع."

(كتاب الزكاة، باب مصرف الزكاة، ج: 2، ص: 263، ط: دار الكتاب الإسلامي)

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"ولا يجوز أن يبني بالزكاة المسجد، وكذا القناطر والسقايات، وإصلاح الطرقات، وكري الأنهار والحج والجهاد وكل ما لا تمليك فيه، ولا يجوز أن يكفن بها ميت، ولا يقضى بها دين الميت كذا في التبيين."

(كتاب الزكاة، الباب السابع في المصارف، ج: 1، ص: 188، ط: دار الفكر)

فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144503100449

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں