بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

6 محرم 1446ھ 13 جولائی 2024 ء

دارالافتاء

 

صدقۃالفطر کا حساب کہاں کی کرنسی کے تحت ہوگا


سوال

 ایک آدمی سعودی عرب میں رہتا ہے ،وہ اپنے بال بچوں کا صدقۃ الفطر کس کرنسی کے تحت ادا کرے گا؟یعنی اپنا اور بال بچوں کا سعودی عرب کے ریال کا ریٹ لگا کر ادا کرے گا یا پاکستان کے کرنسی کا؟

جواب

جو شخص سعودی عرب میں رہتا ہے وہ اگر پاکستان میں اپنے بال بچوں کا صدقۃ الفطر ادا کرے تو سعودی عرب کے ریٹ سے ادا کرے گا۔

فتاوی شامی میں ہے:

"والمعتبر في الزكاة فقراء مكان المال، وفي الوصية مكان الموصي، وفي الفطرة مكان المؤدي عند محمد، وهو الأصح، وأن رءوسهم تبع لرأسه.
(قوله: مكان المؤدي) أي لا مكان الرأس الذي يؤدي عنه (قوله: وهو الأصح) بل صرح في النهاية والعناية بأنه ظاهر الرواية، كما في الشرنبلالية، وهو المذهب كما في البحر؛ فكان أولى مما في الفتح من تصحيح قولهما باعتبار مكان المؤدى عنه".

(کتاب الزکات،فروع في مصرف الزكاة، ج:2، ص:355۔ ط:دار الفكر بيروت)

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"ثم المعتبر في الزكاة مكان المال حتى لو كان هو في بلد، وماله في بلد آخر يفرق في موضع المال، وفي صدقة الفطر يعتبر مكانه لا مكان أولاده الصغار وعبيده في الصحيح، كذا في التبيين. وعليه الفتوى، كذا في المضمرات". 

(کتاب الزکات،الباب السابع في المصارف، ج:1، ص: 190،ط: دار الفكر بيروت)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144509101470

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں