بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

6 محرم 1446ھ 13 جولائی 2024 ء

دارالافتاء

 

صدقہ فطر سبسڈی والے ریٹ کے حساب سے اداکیا جائے یا مارکیٹ ریٹ کے اعتبار سے؟


سوال

ہمارے علاقے چترال میں گندم کی عام مارکیٹ نہیں ہے حکومت کی طرف سے ہر گاؤں میں گودام موجود ہے جہاں پر سبڈائزڈریٹ پر گندم ملتی ہے قدیم الایام سے علمائے کرام  صدقہ فطر اسی کے مطابق ادا کرتے آئے ہیں مارکیٹ ریٹ کے لیے قریبی علاقوں کا اعتبار نہیں کیاگیا ہے ۔

اب چونکہ بعض علماء نے اسی کے مطابق صدقہ فطر کا  اعلان کیا ہےاور بعض علماء مارکیٹ ریٹ کوہی اصل قرار دے کر سبسڈائزڈ ریٹ کو بالکل ناجائز قراردے رہے ہیں جس کی وجہ سے عوام میں بےچینی کی سی کیفیت ہے اور علماء میں اختلاف کی ۔

اس صورتحال میں سوال یہ ہے کہ کیا کیا جائے ؟کیا سبسڈائزڈ ریٹ پر صدقہ فطر کی ادائیگی کی گنجائش ہے؟اگر نہیں ہے تو امسال تک تو اسی کے مطابق ادائیگی ہوئی ہے وہ صحیح اداہوئے ہیں یا ان کی دوبارہ ادائیگی ضروری ہے؟

جواب

واضح رہے کہ  صدقۂ فطر میں بازاری بھاؤ کا اعتبار ہوتا ہے، یعنی صدقۂ فطر اس قیمت سے ادا کیا جاتا ہے جو نرخ عام بازاروں میں ہوتا ہے،   خواہ اسی  نرخ  سے دیا جائے  خواہ قریب تر جگہ جہاں عام  گندم ملتی  ہے وہاں کی قیمت کا اعتبار کرلیا جائے  ۔ 

لہذا صورتِ مسئولہ میں اگر   حکومتی سبسڈی والی گندم خرید لی اور گندم کی جنس ہی صدقۂ فطر میں دے تو دے سکتا ہے ، البتہ اگر  صدقۂ فطر میں گندم  کی قیمت دینی ہے تو عام مارکیٹ کے ریٹ کا اعتبار ہو گا ، سبسڈی والی گندم کی قیمت  کا اعتبار نہیں  ہوگا۔

باقی گذشتہ سالوں میں اگر سبسڈی  والے ریٹ کے مطابق صدقہ فطر ادا کیا ہے تو مارکیٹ ریٹ اور سبسڈی والے ریٹ  میں جتناروپوں کا  فرق ہے ،اتنے روپے مزید اداکردئے جائیں ۔

فتاوی شامی میں ہے:

"ويقوم في البلد الذي المال فيه ولو في مفازة ففي أقرب الأمصار إليه فتح."

(‌‌كتاب الزكاة، باب زكاة الغنم، ج:2، ص:286، ط:سعيد)

البحر الرائق  میں ہے :

"ويقوم ‌العرض ‌بالمصر الذي هو فيه حتى لو بعث عبدا للتجارة في بلد آخر يقوم في ذلك الذي فيه العبد وإن كان في مفازة تعتبر قيمته في أقرب الأمصار إلى ذلك الموضع كذا في فتح القدير."

(كتاب الزكاة، باب زكاة المال، زكاة عروض التجارة، ج:2، ص:246، ط:رشيدية)

فتح القدير لكمال ابن الهمام میں ہے:

"(قوله يقومها) أي المالك في البلد الذي فيه المال حتى لو كان بعث عند التجارة إلى بلد أخرى لحاجة فحال الحول يعتبر قيمته في ذلك البلد، ولو كان في مفازة تعتبر قيمته في أقرب الأمصار إلى ذلك الموضع، وكذا في الفتاوى."

(‌‌‌‌‌‌كتاب الزكاة، باب زكاة المال، فصل في العروض، ج:2، ص:219، ط:مطبعة مصفى البابي الحلبي)

فتاوی  ہندیہ میں ہے:

"ويقومها المالك في البلد الذي فيه المال حتى لو بعث عبدا للتجارة إلى بلد آخر فحال الحول تعتبر قيمته في ذلك البلد، ولو كان في مفازة تعتبر قيمته في أقرب الأمصار إلى ذلك الموضع كذا في فتح القدير ناقلا عن الفتاوى."

(كتاب الزكاة، الباب الثالث، مسائل شتى في الزكاة، ج:1، ص:180،ط:رشيدية)

فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144409101671

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں