بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 محرم 1446ھ 15 جولائی 2024 ء

دارالافتاء

 

صدقہ فطر کس پر واجب ہے، کس وقت دینا واجب ہے؟اور کتنی مقدار واجب ہے؟


سوال

صدقہ فطر کے متعلق تفصیل بیان کریں،کس پر واجب ہے؟کس وقت دینا  واجب ہے؟اورکتنی مقدار واجب ہے؟

جواب

جو مسلمان اتنا مال دار ہو کہ اس پر زکاۃ واجب ہو یا اس پرزکاۃ تو واجب نہیں لیکن ضروری اسباب سے ز ائد اتنی قیمت کا مال یا سامان اس کے پاس موجود ہے جس کی قیمت ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت کے برابر پہنچتی ہو تو اس پر عیدالفطر کے دن صدقہ فطر واجب ہوتاہے چاہے وہ مال تجارت کا ہو یانہ ہو اور چاہے سال پورا گزر چکا ہو یا نہ گزرا ہو اور اس صدقہ کو شرع میں صدقہ فطر کہتے ہیں۔

 مال دار آدمی کے لیے صدقہ فطر اپنی طرف سے بھی ادا کرنا واجب ہے، اپنی نابالغ اولاد کی طرف سے بھی، بالغ اولاد اگر مال دار ہے تو ان کی طرف سے صدقہ فطر ادا کرنا باپ پر واجب نہیں، ہاں اگر باپ ان سے اجازت لے کر خود ادا کردے گا تو بھی ان کا صدقہ فطر ادا ہوجائے گا۔

عیدالفطر کے دن جس وقت فجر کا وقت آتا ہے (یعنی جب سحری کا وقت ختم ہوتاہے) اسی وقت یہ صدقہ واجب ہوتا ہے۔ اور عید کی نماز کے لیے جانے سے پہلے پہلے اسے ادا کرنا مستحب ہے، اگر عیدالفطر کی نماز سے پہلے ادا نہ کیا گیا تو بعد میں بھی ادا کرنا ہوگا، نیز عید الفطر کی نماز کے بعد تک تاخیر مکروہ ہے۔ غریب کی ضرورت کو مدنظر رکھ کر یہ صدقہ عیدالفطر سے پہلے رمضان المبارک میں بھی ادا کیا جاسکتاہے۔

سال 1445ھ بمطابق 2024ء میں صدقہ فطر کی مقدار   ان چار  اجناس (گندم،جو،کھجور،کشمش)میں سے کسی ایک  سے  کراچی میں درجہ ذیل ہے:

1۔گندم: نصف صاع یعنی پونے دو کلو   تاہم احتیاطًا دو کلو یا اس کی  بازاری قیمت دینی  چاہیے، جو تقریبا "300" روپے بنتے ہیں۔

2۔ جو :ایک صاع یعنی تقریبًا ساڑھے تین کلو یا اس کی  بازاری قیمت ہے،جو تقریبا "580"روپے ہیں ۔

3۔کھجور:  ایک صاع یعنی تقریبًا  ساڑھے تین کلو یا اس کی  بازاری قیمت ہے،جو تقریبا"1925"روپے ہیں۔

4۔کشمش: ایک  صاع یعنی تقریبًا  ساڑھے تین کلو یا اس کی  بازاری قیمت ہے۔جو تقریبا "3500"روپے ہیں۔

لہذا   مذکورہ چار اجناس میں سے جس قسم سےصدقہ فطر ادا کرنا چاہیں تو   ادا کر سکتے ہیں۔

النہر الفائق شرح کنز الدقائق میں ہے:

"تجب على كل حر مسلم ذي نصاب فضل عن مسكنه وثيابه وأثاثه وفرسه وسلاحه وعبيده عن نفسه وطفله الفقير وعبده للخدمة ومدبره لا عن زوجته وولده الكبير ومكاتبه أو عبيد لهما."

(کتاب الزکٰوۃ، باب صدقۃ الفطر، ج:1، ص:471، ط:دار الکتب العلمیۃ)

وفیہ ایضًا:

"صبح يوم الفطر فمن مات قبله، أو أسلم، أو ولد بعده لا تجب، وصح لو قدم أو أخر"

(صبح يوم الفطر) ظرف ليجب لما روينا من حديث بن عباس.

والمراد بالفطر ما مر وإخراجها قبل الصلاة مندوب به جاء الأمر ثم فرع على هذا بقوله (فمن مات قبله) أي: الصبح (أو أسلم، أو ولد بعده لا يجب) لأنه وقت الوجوب ليس بأهل (وصح لو قدم) صدقة الفطر على وقت الوجوب لأن وجود السبب كاف في صحة التعجيل والفطر إنما هو شرط فقط لا فرق في ذلك بين وقت ووقت في ظاهر الرواية."

(کتاب الزکٰوۃ، باب صدقۃ الفطر،ج:1، ص:475، ط:دار الکتب العلمیۃ)

صحیح بخاری میں ہے :

"عن ‌عياض بن عبد الله بن سعد بن أبي سرح العامري : أنه سمع ‌أبا سعيد الخدري رضي الله عنه يقول:"كنا نخرج زكاة الفطر، صاعا من طعام، أو صاعا من شعير، أو صاعا من تمر، أو صاعا من أقط،أو صاعا من ‌زبيب."

(کتاب الصوم،باب صدقة الفطر صاع من طعام، ج:2، ص:131، ط: دارالفكر)

 فتاوی ہندیہ میں ہے :

"وانما تجب صدقة الفطر من اربعة اشیاء من الحنطة و الشعیر والتمر و الزبیب."

 ( کتاب الزکوٰۃ،باب صدقة الفطر، ج:1، ص:191، ط:دار الفکر)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144509101467

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں