بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

15 محرم 1446ھ 22 جولائی 2024 ء

دارالافتاء

 

صدقہ فطر کی مقدار


سوال

صدقہ  فطرمقدار سال 2024 کی بتادیں ۔

جواب

صدقہ فطر  میں چار  اجناس (گندم،جو،کھجور،کشمش)میں سے کسی ایک جنس  کا دینا یا اس کی بازاری قیمت کادینا ضروری ہے، تفصیل مندرجہ ذیل ہے:

1۔گندم: نصف صاع یعنی پونے دو کلو   تاہم احتیاطًا دو کلو یا اس کی  بازاری قیمت دینی  چاہیے۔

2۔ جو :ایک صاع یعنی تقریبًا ساڑھے تین کلو یا اس کی  بازاری قیمت ہے۔

3۔کھجور:  ایک صاع یعنی تقریبًا  ساڑھے تین کلو یا اس کی  بازاری قیمت ہے۔

4۔کشمش: ایک  صاع یعنی تقریبًا  ساڑھے تین کلو یا اس کی  بازاری قیمت ہے۔

لہذا   مذکورہ چار اجناس میں سے جس قسم سےصدقہ فطر ادا کرنا چاہیں تو اس کی بازاری قیمت معلوم کرکے اس کا حساب کرلیں،باقی جامعہ کی طرف سے   صدقہ فطر کی رقم کا تعین  شروع رمضان میں کیا جاتا ہے جو جامعہ کی ویب سائٹ پر   بھی جاری کیاجاتا ہے ۔

صحیح بخاری میں ہے :

"عن ‌عياض بن عبد الله بن سعد بن أبي سرح العامري : أنه سمع ‌أبا سعيد الخدري رضي الله عنه يقول:"كنا نخرج زكاة الفطر، صاعا من طعام، أو صاعا من شعير، أو صاعا من تمر، أو صاعا من أقط،أو صاعا من ‌زبيب."

(کتاب الصوم،باب صدقة الفطر صاع من طعام،ج:2،ص:131،ط: دارالفكر)

سننِ نسائی میں ہے :

"عن ‌ابن عباس قال:ذكرفي صدقة‌الفطرقال:صاعامن برأوصاعامن تمرأوصاعامن شعيرأوصاعامن سلت."

(كتاب الزكاة،باب مكيلةصدقة الفطر،ج:5،ص:51،ط: المكتبة النجارية بالقاهره)

فتاوی ہندیہ میں ہے :

"وانما تجب صدقة الفطر من اربعة اشیاء من الحنطة و الشعیر والتمر و الزبیب."

(باب صدقة الفطر، ج:1، ص:191، ط: مکتبة حقانیة)

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"وھی نصف صاع من بر او صاع من شعیر او تمر."

(باب صدقة الفطر، ج:1، ص:191، ط: مکتبة حقانیة)

فتاوی شامی میں ہے:

"ودفع القیمة أي الدراھم أفضل من دفع العین علی المذھب المفتی به،لأن العلة فی أفضلیة القيمة کونھا أعون علی دفع حاجة الفقیر."

(باب صدقة الفطر،ج:2،ص:366،ط: سعید)

  فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144508101187

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں