بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

9 رجب 1444ھ 01 فروری 2023 ء

دارالافتاء

 

صدقہ فطر کی مقدار


سوال

روپےکےحساب سےآج کےدورمیں صدقہ فطرکی مقدارکیاہے؟

جواب

صدقہ فطر  میں چار  اجناس (گندم،جو،کھجور،کشمش)میں سے کسی ایک جنس  کا دینا یا اس کی مارکیٹ کی قیمت کادینا ضروری ہے، تفصیل مندرجہ ذیل ہے:

1:گندم نصف صاع یعنی پونے دو کلو   تاہم احتیاطًا دو کلو یا اس کی متوسط  بازاری قیمت دینی  چاہیے۔

2: جو ایک صاع یعنی تقریبًا ساڑھے تین کلو یا اس کی متوسط  بازاری قیمت ہے۔

3:کھجور  ایک صاع یعنی تقریبًا  ساڑھے تین کلو یا اس کی متوسط  بازاری قیمت ہے۔

4:کشمش ایک  صاع یعنی تقریبًا  ساڑھے تین کلو یا اس کی  بازاری قیمت ہے،نیزمذکورہ چار اجناس میں سے کسی ایک کی  بازاری قیمت فقیر کی حاجت پورا کرنے کے  لیے بطورِ صدقہ فطر   دینا زیادہ بہتر  اور  آخرت میں ثواب کا باعث ہے، نیز ملحوظ رہے کہ قیمت کے اعتبار سے صدقہ فطر اداکرتے وقت کی قیمت کااعتبار ہوتاہے،لہذا صدقہ فطر ادا کرتے وقت مارکیٹ سے قیمت معلوم کر لیں،اور حساب کر کے ادا کر لیں۔

فتاوی ہندیہ میں ہے :

"وانما تجب صدقة الفطر من اربعة اشیاء من الحنطة و الشعیر والتمر و الزبیب."

(باب صدقة الفطر، ج:1، ص:191، ط:مکتبة حقانیة)

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"وھی نصف صاع من بر او صاع من شعیر او تمر."

(باب صدقة الفطر، ج:1، ص:191، ط:مکتبة حقانیة)

وفیہ ایضاً:

"ثم الدقيق أولى من البر، والدراهم أولى من الدقيق لدفع الحاجة، وما سواه من الحبوب لا يجوز إلا بالقيمة وذكر في الفتاوى أن أداء القيمة أفضل من عين المنصوص عليه وعليه الفتوى كذا في الجوهرة النيرة."

(كتاب الزكوة،الباب الثامن في الصدقة الفطر،ج:1،ص:191،ط:رشيديه)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144406101778

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں