بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 جُمادى الأولى 1444ھ 03 دسمبر 2022 ء

دارالافتاء

 

بھائی، بہن اور قریبی رشتہ داروں کو صدقہ فطر دینے کا حکم


سوال

فطرانہ کیا اپنے بہن بھائی یا قریبی رشتے داروں کو دے سکتے  ہیں؟

جواب

صورت مسئولہ میں اگر آپ کے بھائی، بہن اور  دیگر  (علاوہ اصول و فروع کے درمیان بیوی کے) قریبی رشتہ دار مستحقِ زکوٰۃ ہیں اور وہ سید بھی نہیں ہیں   تو   آپ انہیں   صدقہ فطر دے سکتے ہیں۔

مستحق ہونے کا مطلب یہ ہے کہ ان کےپاس ساڑھے سات تولہ سونا یا ساڑھے باون تولہ چاندی یا  ضرورت و استعمال سے زائد اس مالیت کا  کسی قسم کا ما ل یا سامان موجود  نہ ہو۔

نیز اپنے بھائی، بہنوں کو زکات یا صدقہ فطر دیتے وقت اس بات کا خیال رکھنا ہے کہ اگر آپ کا کھانا پینا ایک ساتھ ہے اور وہ بھائی، بہن   فطرانہ  کی رقم مشترکہ استعمال کریں   جس سے آپ کا بھی فائدہ ہو تو اس میں کراہت ہوگی، لہذا ایسی صورت میں اسے بتادیا جائے کہ فطرانے  کی رقم وہ خود استعمال کریں ، مشترکہ خرچ میں شامل نہ کریں۔

المحیط البرهاني میں ہے:

"وفي العیون: رجل یعول أخته أو أخاه أوعمه أوعمته فأراد أن یعطیه الزکاة إن لم یکن فرض علیه القاضی نفقته جاز؛ لأن التملیک من هولاء بصفة القربة یتحقق من کل وجه فیتحقق رکن الزکاة، وإن کان القاضی فرض علیه نفقته إن لم یحتسب المؤدي إلیه من نفقته جاز أیضاً، وإن کان لایحتسب لایجوز لأن هذا أداء الواجب بواجب آخر".

(کتاب الزکاۃ، الفصل الثامن في المسائل المتعلقة بمن توضع الزكاة فيه، 2، 287، ط: دار الكتب العلمية، بيروت - لبنان) 

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144309100845

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں