بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

19 ذو القعدة 1441ھ- 11 جولائی 2020 ء

دارالافتاء

 

صدقہ فطر کہاں ادا کرنا چاہیے؟


سوال

ہم دبئی میں مقیم ہیں اور میرے بچے پاکستان میں مقیم ہیں، میں نے سنا ہے کہ نابالغ بچوں کا صدقہ فطر جہاں سرپرست موجود ہے اسی جگہ کے اعتبار سے دینا ہوگا۔

 سوال یہ ہےکہ اگر ہم پر دبئی میں اپنے نابالغ بچوں کا صدقہ فطر ادھر ہی دینا  لازم ہے تو اس کا  کیا حکم /مطلب ہے؟

اگر واجب ہے تو دلیل کے ساتھ وضاحت فرمائیں۔

اگر پاکستان میں ادائیگی نہیں ہوگی تو اس کی بھی دلیل کے ساتھ وضاحت فرمائیے۔

دبئی میں ادا کرنا لازمی ہے،اس کی بھی وضاحت کریں اور پاکستان میں ادا نہیں ہوگا، اس کی بھی وضاحت فرمائیے۔

 ہم لوگ ادھر بہت پریشان ہیں، کوئی کہتا ادھر ہوگا، کوئی کہتا ہے پاکستان میں ادا کرنا ہوگا، تو دونوں صورتوں کی وضاحت کریں۔

جواب

واضح رہے کہ  اجناس کے اعتبار سے صدقہ فطر  کی مقدار خواہ دنیا میں کہیں بھی ادا کی جائے، درج ذیل ہے:

 گندم کے حساب سے  پونے دو کلو گندم۔

 کھجور، جو  یا کشمش کے حساب سے ساڑھے تین کلو  کھجور، جَو  یاکشمش  ہے۔

لہذا اگر صدقہ فطر میں بعینہ مذکورہ اجناس میں سے کوئی جنس دی جا رہی ہو تو ایسی صورت میں مذکورہ بالا وزن کے اعتبار سے دینا شرعاً ضروری ہے، البتہ اگر صدقہ فطر نقدی کی صورت میں ادا کرنا مقصود ہو تو ایسی صورت میں ادائیگی کرنے والا جہاں موجود ہو،   وہاں کی قیمت کا اعتبار ہوگا، لہذا  اگر آپ دبئی میں مقیم ہیں اور عید الفطر  کے روز بھی وہیں مقیم ہوں گے تو  آپ پر اپنا اور اپنے نابالغ بچوں کا صدقہ فطر  دبئی کے  نرخ کے حساب سے دینا لازم ہوگا،  خواہ صدقہ فطر وہیں دبئی میں ادا کریں یا پاکستان میں کسی کو ادا کرنے کا ذمہ دار بنائیں، بہر صورت دبئی کے نرخ کے اعتبار سے ادا کرنا ہوگا، تاہم دبئی ہی میں ادا کرنا لازم نہیں، پاکستان یا کسی اور ملک میں بھی ادا کرسکتے ہیں۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (2/ 355):

"والمعتبر في الزكاة فقراء مكان المال، وفي الوصية مكان الموصي، وفي الفطرة مكان المؤدي عند محمد، وهو الأصح، وأن رءوسهم تبع لرأسه".

و في الرد:

"(قوله: مكان المؤدي) أي لا مكان الرأس الذي يؤدي عنه (قوله: وهو الأصح) بل صرح في النهاية والعناية بأنه ظاهر الرواية، كما في الشرنبلالية، وهو المذهب كما في البحر؛ فكان أولى مما في الفتح من تصحيح قولهما باعتبار مكان المؤدى عنه".

الفتاوى الهندية (1/ 190) :

"ثم المعتبر في الزكاة مكان المال حتى لو كان هو في بلد، وماله في بلد آخر يفرق في موضع المال، وفي صدقة الفطر يعتبر مكانه لا مكان أولاده الصغار وعبيده في الصحيح، كذا في التبيين. وعليه الفتوى، كذا في المضمرات". فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144109202340

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں