بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

20 ذو الحجة 1442ھ 31 جولائی 2021 ء

دارالافتاء

 

صدقۂ فطر کا مصرف


سوال

صدقۂ فطر  اگر ایسے شخص کو دیں جس کی معذوری ایک ایکسیڈینٹ میں ہوئی،  اور  اس  کی بیٹیاں جوان اور بیٹا چھوٹا  ہے جو کما نہیں سکتا،  ان کے پاس تقریبًا 1 ایکڑ زمین ہے جس سے گزارہ ہوتا تھا۔ لیکن ابھی کوئی کمانے والا نہیں!

جواب

صدقۂ  فطر  کا مصرف وہی ہے جو زکوٰۃ  کا مصرف ہے، اور صدقہ فطر اور زکاۃ کے مستحق  وہ افراد ہیں جو  نہ بنی ہاشم (سید وں یا عباسیوں وغیرہ)  میں سے ہوں اور  نہ ہی ان کے پاس ضرورت و استعمال سے زائد اتنا مال یا سامان موجود ہو جس کی مالیت نصاب  (ساڑھے سات تولہ سونا، یاساڑھے باون تولہ چاندی یا ساڑھے باون تولہ چاندی کی موجودہ قیمت)   تک پہنچے۔ ایسے افراد کو زکات  اور صدقہ فطر دیاجاسکتا  ہے ۔

لہٰذا صورتِ  مسئولہ میں اگر  مذکورہ شخص ان شرائط پر واقعتًا  پورا اترتا ہے تو اس کو صدقۂ فطر دینا جائز ہے، زمین چوں کہ ذریعۂ آمدن تھی لیکن فی الوقت اس سے استفادہ ممکن نہیں، لہٰذا اس کی مالیت نصاب میں شامل نہیں کی جائے گی۔

شامی میں ہے:

"باب المصرف

أي مصرف الزكاة والعشر، ... (هو فقير، وهو من له أدنى شيء) أي دون نصاب أو قدر نصاب غير نام مستغرق في الحاجة.

وهو مصرف أيضاً لصدقة الفطر والكفارة والنذر وغير ذلك من الصدقات الواجبة، كما في القهستاني."

(الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (2/ 339)، بَابُ مَصْرِفِ الزَّكَاةِ وَالْعُشْرِ، ‌‌كِتَابُ الزَّكَاةِ، ط: سعید)

بدائع میں ہے:

"و كما لايجوز صرف الزكاة إلى الغني لايجوز صرف جميع الصدقات المفروضة والواجبة إليه كالعشور والكفارات والنذور وصدقة الفطر ؛ لعموم قوله تعالى: ﴿ إِنَّمَا الصَّدَقَاتُ لِلْفُقَرَآءِ ﴾ [التوبة: 60] وقول النبي صلى الله عليه وسلم : «لا تحل الصدقة لغني» ؛ ولأن الصدقة مال تمكن فيه الخبث ؛ لكونه غسالة الناس ؛ لحصول الطهارة لهم به من الذنوب، ولا يجوز الانتفاع بالخبيث إلا عند الحاجة، والحاجة للفقير لا للغني."

(بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (2/ 47)، فصل الذي يرجع إلى المؤدى إليه، ‌‌[كتاب الزكاة]، الناشر: دار الكتب العلمية)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144209200918

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں