بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

6 محرم 1446ھ 13 جولائی 2024 ء

دارالافتاء

 

صدقہ الفطر کا افضل وقت


سوال

کیا صدقہ فطر عید سے پہلے ادا ہو سکتا ہے اور کتنا پہلے تک؟

جواب

واضح رہے،کہ صدقہ فطر  کے وجوب کا تعلق عیدالفطر کے دن  طلوع فجر کے وقت سے ہے یعنی عید الفطر کے دن طلوع فجر کے وقت جو زندہ ہو اس پر بحسب شرائط صدقہ فطر واجب ہوتاہے، البتہ صدقہ فطر عید سے پہلے رمضان المبارک میں بھی کسی بھی دن  ادا کرنا درست ہے، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے رمضان المبارک میں صدقہ فطر کی ادائیگی ثابت ہے،عید کے دن سے پہلے صدقہ فطر  کی ادائیگی کی صورت میں فقہاءِ کرام کے دو طرح کے اقوال کتبِ فقہ میں ملتے ہیں، ایک قول  یہ ہے کہ صدقۂ فطر رمضان المبارک کے مہینے میں کسی بھی دن دینا جائز ہے، البتہ رمضان المبارک سے قبل ادا کرنا درست نہ ہوگا، جب کہ دوسرا قول یہ ہے کہ صدقہ فطر کا حکم بھی زکاۃ  کی طرح ہے یعنی چاہے رمضان میں ادا کیا جائے یا رمضان سے بھی پہلے ادا کیا جائے دونوں صورتوں میں صدقہ فطر ادا ہوجائے گا۔

عبادات میں چوں کہ احتیاط کو پیشِ نظر رکھنا شریعت میں مطلوب ہے؛ اس لیے پہلے والے قول پر عمل کرنا چاہیے، چناں چہ صدقہ فطر عید سے پہلے رمضان میں جس وقت چاہے ادا کرلیا جائے،  البتہ رمضان سے پہلے ادا نہیں کرنا چاہیے۔

البحر الرائق میں ہے:

"( قوله : وصح لو قدم أو أخر ) أي صح أداؤها إذا قدمه على يوم الفطر أو أخره أما التقديم فلكونه بعد السبب ؛ إذ هو الرأس ، وأما الفطر فشرط الوجوب كما قدمناه ··· فصار كتقديم الزكاة على الحول بعد ملك النصاب بمعنى أنه لا فارق لا أنه قياس فاندفع به ما في فتح القدير من أن حكم الأصل على خلاف القياس فلا يقاس لكنه وجد فيه دليل ، وهو حديث البخاري وكانوا يعطون قبل الفطر بيوم أو بيومين وأطلق في التقديم فشمل ما إذا دخل رمضان وقبله وصححه المصنف في الكافي ، وفي الهداية والتبيين وشروح الهداية ، وفي فتاوى قاضي خان وقال خلف بن أيوب : يجوز التعجيل إذا دخل رمضان ، وهكذا ذكره الإمام محمد بن الفضل ، وهو الصحيح في فتاوى الظهيرية والصحيح أنه يجوز تعجيلها إذا دخل شهر رمضان ، وهو اختيار الشيخ الإمام أبي بكر محمد بن الفضل وعليه الفتوى ا هـ ، فقد اختلف التصحيح كما ترى لكن تأيد التقييد بدخول رمضان بأن الفتوى عليه فليكن العمل عليه."

(كتاب الزكاة، باب صدقة الفطر، 275.274/2، ط: دار الكتاب الإسلامي)

تاتارخانیة میں ہے: 

"والمختار إذا دخل شهر رمضان یجوز وقبله لایجوز، وفي الظهيرية : وعلیه الفتویٰ". 

(الفصل الثالث عشر في صدقة الفطر، ج: 3، ص: 452، ط: مكتبة زكريا بديوبند،الهند)

فقط والله اعلم


فتوی نمبر : 144509102398

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں