بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

29 صفر 1444ھ 26 ستمبر 2022 ء

دارالافتاء

 

شادی کے لیے سودی قرضہ لینے کا حکم


سوال

میری عمر 22 سال ہے، میں پولیس میں ملازم ہو ں،  اللہ کا شکر ہے، بات یہ ہے کہ  مجھے اپنے  نکاح کے لیے کچھ پیسوں کی ضرورت ہے،  بہت  کوشش کی ، مگرمجھے کسی نے نہیں دیے، بہت سے بندوں سے ادھار مانگا،  مگر کچھ نہیں ہوا،  آخر میں نے  سوچا بینک سے لون اٹھا لوں ،  بینک کا لون سود ہوتا ہے،  مگر میں کیا کروں؟   کوئی  مجھے دیتا نہیں،  مجبور ہوں کیا کروں؟  سود حرام ہے،  کیا کروں میں؟  

جواب

واضح رہے کہ سود لینا اور سود دینا دونوں قرآن و حدیث کی قطعی نصوص سے حرام ہیں، حدیثِ مبارک میں  سودی لین دین کرنے والوں پر لعنت کی  گئی ہے، اور بینک  سے    ملنے والاقرض  سراسر سود پر مشتمل ہوتا ہے، اور بینک سے قرض لینا سودی معاملہ ہے،  اور سودی قرض  لینا جائز نہیں  ۔

نیز  شدید مجبوری  کی صورت میں سودی قرض لینے  کی اجازت ہے، معمولی مجبوری میں یہ گنجائش نہیں ہے، اس لیے  شدید مجبوری  کے بغیر بینک سے قرض  لینا شرعًا جائز نہیں ہوگا،اور شادی کے  لیے سودی قرضہ لینا شدید مجبوری میں داخل نہیں ہے ۔

لہذا صورتِ مسئولہ میں  شادی کے  لیے سودی قرضہ لینا جائز نہیں ہے ۔

 شادی  کے لیے رشتہ دار  یا دوست وغیرہ سے بلا سود  قرضہ لے لیں،  اگر وہ نہ  دیں تو ان کو راضی کر نے کی کوشش کریں اور اگر کوئی بندوبست نہ ہو تو اللہ تعالیٰ پر توکل کرتے ہوئے قناعت کرنا چاہیے، کیوں کہ قرض لینے کے بعد اس قرض کی ادائیگی کا بھی تو انتظام کرنا ہوگا، اس وقت جیسے محنت کرکے حلال رقم سے ادائیگی کا انتظام کیا جائے گا، ابھی سے کوشش کرلی جائے؛  تاکہ سودی قرض لینے کی ہی نوبت نہ آئےاور شادی کے  لیے مروجہ رسم  و رواج اور فضول خرچی سے اجتناب کریں،  ضرورت کے بقدر ہی اخراجات کریں ، اور اگر بعد میں ادائیگی میں حلال کا اہتمام نہ ہو تو یہ  گناہ در گناہ ہوجائے  گا، کہیں اس سے زیادہ پریشانی نہ ہوجائے، اور سودی قرضہ اتارنے کے لیے  پھر سودی قرضے لینے کا سلسلہ   نہ کرنا   پڑجائے، اور آدمی  اگر حرام سے بچنے  کے لیے ہمت بلند رکھے اور اللہ تعالیٰ پر بھروسہ رکھے تو اللہ کی طرف سے مدد ہوتی ہے، اور اللہ تعالی ایسی جگہ سے بندوبست کرتے ہیں جو اس کے وہم و گمان میں بھی نہیں ہوتی۔

ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

"{وَمَنْ يَتَّقِ اللَّهَ يَجْعَلْ لَهُ مَخْرَجًا،  وَيَرْزُقْهُ مِنْ حَيْثُ لَا يَحْتَسِبُ وَمَنْ يَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّهِ فَهُوَ حَسْبُهُ إِنَّ اللَّهَ بَالِغُ أَمْرِهِ قَدْ جَعَلَ اللَّهُ لِكُلِّ شَيْءٍ قَدْرًا}"

[سورة الطلاق: 2، 3]

حدیث مبارک میں ہے:

"عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: لَعَنَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ آكِلَ الرِّبَا، وَمُؤْكِلَهُ، وَكَاتِبَهُ، وَشَاهِدَيْهِ» ، وَقَالَ: «هُمْ سَوَاءٌ".

(الصحیح لمسلم، 3/1219، کتاب المساقات، دار احیاء التراث ، بیروت۔مشکاۃ المصابیح،  باب الربوا، ص: 243، قدیمی)

      مشكاة المصابيح  میں ہے:

"وعن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «الربا سبعون جزءا أيسرها أن ینکح الرجل أمه."

(1/246، باب الربوا ، ط؛ قدیمی)

اعلاء السنن میں ہے:

"قال ابن المنذر: أجمعوا على أن المسلف إذا شرط على المستسلف زیادة أو ھدیة  فأسلف على ذلك إن أخذ الزیادة علی ذلك ربا".

(14/513، باب کل قرض جر  منفعۃ، کتاب الحوالہ، ط؛ ادارۃ القرآن)

      الاشباہ والنظائر میں ہے:

  "وفي القنية والبغية: يجوز للمحتاج الاستقراض بالربح (انتهى)".

(ص؛93، الفن الاول، القاعدة الخامسة، ط:قدیمی)

فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144308100581

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں