بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

9 ذو القعدة 1445ھ 18 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

صدقہ نکالتے وقت دل میں کسی حاجت کی نیت کرنا / صدقہ کے فضائل


سوال

صدقہ کے بارے میں جیسے آتاہے مصیبتوں کو ٹالتاہے اور بیماریوں کے لیے  شفا ہے، ایک روپے کےبدلےمیں دس ملتاہے اور ثواب بھی ملتاہے مجھ سے جتنا بھی ہوتاہے، دن میں چھوٹا ساصدقہ کرتا ہوں، کیا مجھے یہ سب چیزیں ملیں گی  یا جس کی نیت کرتاہوں وہ ملےگا؟

جواب

صدقہ کے بارے میں احادیث میں بہت سارے فضائل( جیسے صدقہ مصیبتوں کو ٹالتاہے،بری موت سے بچاتاہے،جوصدقہ  اِخلاص کے ساتھ اللہ کی راہ میں دیاجائے،اللہ تعالی اس کے بدلے  کم از کم دس گنا اجر عطا فرماتے ہیں اور صدقہ و زکات کے نتیجے میں مال میں برکت ڈالتے ہیں وغیرہ) وارد ہوئے ہیں ،لہذاجو مسلمان بھی ان فضائل کو سامنے رکھتے ہوئے اللہ کی راہ میں صدقہ دیتاہے،یقیناً اللہ تعالی اس کو دنیامیں بھی اورآخرت میں بھی اس کا بہترین بدلہ عطافرمائیں گے،نیزصدقہ نکالتے وقت آپ کے دل میں کوئی جائزحاجت ہوتوصدقہ کی برکت سے اللہ تعالی کی ذات سے امیدہے کہ وہ بھی پوری ہوگی ۔

سننِ ترمذی میں ہے:

"عن أنس بن مالك قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «إن ‌الصدقة لتطفئ غضب الرب وتدفع ميتة السوء."

(باب ماجاء في فضل الصدقة ج : 3 ص: 43 ط : شركة مكتبة ومطبعة مصطفى البابي الحلبي  مصر)

وفیہ ایضاً:

"عن معاذ بن جبل، قال: كنت مع النبي صلى الله عليه وسلم في سفر، فأصبحت يوما قريبا منه ونحن نسير، فقلت: يا رسول الله أخبرني بعمل يدخلني الجنة ويباعدني عن النار، قال: «لقد سألتني عن عظيم، وإنه ليسير على من يسره الله عليه، تعبد الله ولا تشرك به شيئا، وتقيم الصلاة، وتؤتي الزكاة، وتصوم رمضان، وتحج البيت ثم قال: " ألا أدلك على أبواب الخير: الصوم جنة، والصدقة تطفئ الخطيئة كما يطفئ الماء النار، وصلاة الرجل من جوف الليل " قال: ثم تلا {تتجافى جنوبهم عن المضاجع} [السجدة: 16]، حتى بلغ (يعملون)."

(باب ماجاء في حرمة الصلاة ج : 5 ص : 11 ط :  شركة مكتبة ومطبعة مصطفى البابي الحلبي  مصر)

الجامع لمعمربن راشدالازدی میں ہے:

"عن يحيى بن أبي كثير، قال: بلغنا أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: «أمر يحيى بن زكريا بخمس كلمات أن يبلغهن ويعلمهن بني إسرائيل، ويعمل بهن، ويأمر بني إسرائيل أن يعملوا بهن، فكأنه أبطأ فقيل لعيسى: مر يحيى أن يأمر بهذه الكلمات وإلا فأمر بهن أنت، فقال عيسى ليحيى ذلك، فقال يحيى: لا تفعل، فإني أخاف إن أمرت بهن أن أعذب أو يخسف الله بي الأرض، قال: فجمع يحيى بني إسرائيل في بيت المقدس حتى امتلأ المسجد، ثم جلسوا على شرفه فقال: إن الله أمرني بخمس كلمات أن أعلمكموهن وآمركم أن تعملوا بهن ثم قال: أولاهن: ألا تشركوا بالله شيئا....قال: وآمركم بالصدقة، فإن مثل ‌الصدقة كمثل رجل أخذه العدو فقدموه ليضربوا عنقه، فقال: ما تصنعون بضرب عنقي، ألا أفتدي نفسي منكم بكذا وكذا؟ قالوا: بلى، فافتدى نفسه منهم، فكذلك ‌الصدقة تطفئ الخطيئة."

(باب لزوم الجماعة ج : 11 ص : 339 ط : المجلس العلمي الهند، توزيع المكتب الإسلامي بيروت)

فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144407100331

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں