بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

6 محرم 1446ھ 13 جولائی 2024 ء

دارالافتاء

 

صدقہ فطر کی مقدار کا بیان حکم


سوال

اس سال یعنی 1444 میں اجناس مختلفہ (گندم ،جو،کھجور،کشمش )کے اعتبار سے صدقۃالفطر کی مقدار کیا طے کی گئی ہے؟ رہنمائی کی درخواست ہے۔

جواب

صدقہ فطر  میں چار  اجناس (گندم،جو،کھجور،کشمش)میں سے کسی ایک جنس  کا دینا یا اس کی مارکیٹی قیمت کادینا ضروری ہے، تفصیل مندرجہ ذیل ہے:

1:گندم نصف صاع یعنی پونے دو کلو   تاہم احتیاطًا دو کلو یا اس کی  بازاری قیمت دینی  چاہیے۔

2: جو ایک صاع یعنی تقریبًا ساڑھے تین کلو یا اس کی  بازاری قیمت ہے۔

3:کھجور  ایک صاع یعنی تقریبًا  ساڑھے تین کلو یا اس کی  بازاری قیمت ہے۔

4:کشمش ایک  صاع یعنی تقریبًا  ساڑھے تین کلو یا اس کی  بازاری قیمت ہے،لہذا مذکورہ چار اجناس میں سے کسی ایک کی  بازاری قیمت فقیر کی حاجت پورا کرنے کے  لیے بطورِ صدقہ فطر   دینا زیادہ بہتر  اور  آخرت میں ثواب کا باعث ہے۔

کراچی اور اس کے مضافات کے لیے امسال1444ھ2023ءجامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کے دارالافتاء کی جانب سے    صدقہ فطر کی مقدار درج ذیل ہے،باقی سائل اگر کسی دوسرے شہر یا دوسرے ملک میں ہے، تو پھر مقدار میں فرق آسکتا ہے، اسے مقامی علماء سے معلوم کرلے:

گندم :250 روپے

جو :                460روپے 

 کھجور :1,470روپے

کشمش:2,630روپے۔

صحیح بخاری میں ہے :

"عن ‌عياض بن عبد الله بن سعد بن أبي سرح العامري : أنه سمع ‌أبا سعيد الخدري رضي الله عنه يقول:"كنا نخرج زكاة الفطر، صاعا من طعام، أو صاعا من شعير، أو صاعا من تمر، أو صاعا من أقط،أو صاعا من ‌زبيب."

(کتاب الصوم،باب صدقة الفطر صاع من طعام،ج:2،ص:131،ط:دارالفكر)

سننِ نسائی میں ہے :

"عن ‌ابن عباس قال:"ذكرفي صدقة‌الفطرقال:صاعامن برأوصاعامن تمرأوصاعامن شعيرأوصاعامن سلت."

(كتاب الزكاة،باب مكيلةصدقة الفطر،ج:5،ص:51،ط:المكتبة النجارية بالقاهره)

فتاوی ہندیہ میں ہے :

"وانما تجب صدقة الفطر من اربعة اشیاء من الحنطة و الشعیر والتمر و الزبیب."

(باب صدقة الفطر، ج:1، ص:191، ط:مکتبة حقانیة)

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"وھی نصف صاع من بر او صاع من شعیر او تمر."

(باب صدقة الفطر، ج:1، ص:191، ط:مکتبة حقانیة)

فتاوی شامی میں ہے:

"ودفع القیمة ای الدراھم افضل من دفع العین علی المذھب المفتی به،لان العلة فی افضلیة القیمة کونھا اعون علی دفع حاجة الفقیر."

(باب صدقة الفطر،ج:2،ص:366،ط:ایچ ایم سعید)

  فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144408102637

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں