بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

17 ذو الحجة 1441ھ- 08 اگست 2020 ء

دارالافتاء

 

صدقات کس کو دینا افضل ہے؟


سوال

مجاہدین کو زکوۃ، عطیہ, صدقہ فطر  ادا کرنے میں زیادہ فضیلت ہے یا کسی اور کو؟ 

جواب

صدقات وخیرات کا افضل اور بہتر مصرف  موقع محل اور ضرورت وحاجت کے اعتبار سےمختلف ہوسکتے ہیں، جس وقت جہاں زیادہ ضرورت ہو وہاں ان صدقات کے خرچ کا ثواب زیادہ ہوگا، مثلاً اگر کہیں کوئی رشتہ دار زیادہ ضرورت مند ہے تو عام فقراء کی بہ نسبت ان کو  صدقہ دینے میں صدقہ کے ثواب کے ساتھ صلہ رحمی کا ثواب بھی ہوگا، یا کوئی سفید پوش، نیک صالح شخص غریب ہے، یا کوئی آپ ﷺ کے خاندان کا سید شخص محتاج ہے تو اس کو  (زکات اور واجب صدقات کے علاوہ) صدقہ دینے کا ثواب زیادہ ہوگا، اور اگر کہیں اِحیاءِ دین  کے لیے مدارس کی ضرورت ہے، یا مسجد کی ضرورت ہے  یا مدارس کے طلبہ زیادہ محتاج ہیں تو  ان کو صدقہ کرنا زیادہ افضل ہوگا، اسی طرح کہیں شرعی جہاد جاری ہو اور وہاں انفاق کی ضرورت ہو تو  جہاد میں مصروف مجاہدین کو دینا زیادہ افضل ہوگا،  غرض یہ ہے کہ موقع محل اور ضرورت کے اعتبار سے دیکھ لیا جائے کہ کہاں ضرورت زیادہ ہے!  اس کو مدنظر رکھتے ہوئے صدقات وہاں صرف کیے جائیں۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (2/ 621):
"قال الرحمتي: والحق التفصيل، فما كانت الحاجة فيه أكثر والمنفعة فيه أشمل فهو الأفضل كما ورد: «حجة أفضل من عشر غزوات». وورد عكسه فيحمل على ما كان أنفع، فإذا كان أشجع وأنفع في الحرب فجهاده أفضل من حجه، أو بالعكس فحجه أفضل، وكذا بناء الرباط إن كان محتاجاً إليه كان أفضل من الصدقة وحج النفل وإذا كان الفقير مضطراً أو من أهل الصلاح أو من آل بيت النبي صلى الله عليه وسلم فقد يكون إكرامه أفضل من حجات وعمر وبناء ربط. كما حكى في المسامرات عن رجل أراد الحج فحمل ألف دينار يتأهب بها، فجاءته امرأة في الطريق وقالت له: إني من آل بيت النبي صلى الله عليه وسلم وبي ضرورة فأفرغ لها ما معه، فلما رجع حجاج بلده صار كلما لقي رجلاً منهم يقول له: تقبل الله منك، فتعجب من قولهم، فرأى النبي صلى الله عليه وسلم في نومه وقال له: تعجبت من قولهم: تقبل الله منك؟ قال: نعم يا رسول الله؛ قال: إن الله خلق ملكاً على صورتك حج عنك؛ وهو يحج عنك إلى يوم القيامة بإكرامك لامرأة مضطرة من آل بيتي؛ فانظر إلى هذا الإكرام الذي ناله لم ينله بحجات ولا ببناء ربط".
 فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144109202689

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں