بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

16 محرم 1446ھ 23 جولائی 2024 ء

دارالافتاء

 

صدقہ فطر متولی مسجد کے ذریعے غرباء میں تقسیم کرنا


سوال

ہمارے گاوؑں میں صدقہ فطر عید کےدن جمع کیا جاتا ہے، مسجد کے متولی تمام لوگوں سے اصول کرتے ہیں اور اسے غرباء میں تقسیم کیا جاتا ہے، کیا یہ طریقہ صحیح ہے ؟

جواب

صدقۂ فطر  مسجد کے متولی کے  ذریعے   غرباء میں تقسیم کرنا  جائز ہے، لیکن کوشش کریں کہ  عید کی نمازسے پہلے پہلے  صدقہ فطر غرباءمیں تقسیم ہوجائے؛ کیوں کہ عید کی نماز سے پہلے پہلے صدقہ فطر ادا کرنا مستحب ہے،  اور تاکہ وہ لوگ بھی اپنی ضروریات خرید کر عید کی خوشی میں شامل ہوجائیں۔

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"ويستحب التختم، والتطيب، والتبكير وهو سرعة الانتباه، والابتكار وهو المسارعة إلى المصلى، وأداء صدقة الفطر قبل الصلاة".

(الفتاوى الهندية: كتاب الصلاة، الباب السابع عشر في صلاة العيدين 1/ 149، ط. رشيديه)

فقط واللہ ٲعلم


فتوی نمبر : 144405101782

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں