بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

24 ذو الحجة 1442ھ 04 اگست 2021 ء

دارالافتاء

 

مرض الموت میں مریض سے پوچھ کر یا بغیر پوچھے صدقہ، خیرات یا مسجد کے لیے مال دینے کا حکم


سوال

مرض  الموت  میں مریض سے پوچھ کر یا بغیر پوچھے صدقہ ، خیرات  یا مسجد  کے لیے مال دینے کا کیا حکم ہے؟

جواب

 بغیر پوچھے مریض کے مال میں سے صدقہ کرنا  درست نہیں ہے ، ہاں اپنے  مال میں سے کیا جاسکتاہے۔ البتہ   کچھ تھوڑی سی چیز جس کی  عام  اجازت ہوتی ہے، اتنا صدقہ کرنا جائز ہے۔ مرض الوفات میں ہبہ اور عطیہ اور صدقہ  وصیت کے حکم میں ہوتا ہے، لہذا مذکورہ  صدقہ  اگر مرحوم کے کل مال کا ایک تہائی یا اس سے کم ہے تو اس صورت میں  میت سے اجازت لے کر اتنا صدقہ کرنا جائز ہے۔

الموسوعة الفقهية الكويتية (26/ 328):

"قال في الهداية: يجوز للمرأة أن تتصدق من منزل زوجها بالشيء اليسير، كالرغيف ونحوه؛ لأن ذلك غير ممنوع عنه في العادة."

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144208200613

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں