بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

9 ذو الحجة 1445ھ 16 جون 2024 ء

دارالافتاء

 

صدقہ فطر کا مصرف


سوال

 صدقہ اور فطرہ کون کون  لوگ کھاسکتے ہیں؟

جواب

واضح رہے کہ صدقہ فطر کا مصرف وہی ہے جو زکوٰۃ کا مصرف ہے،  یعنی جس شخص کو زکاۃ دینا جائز ہے اس کو صدقہ فطر دینا بھی جائز ہےاورشرعی اعتبار سے  صدقہ فطر اور زکاۃ کے مستحق  وہ افراد ہیں جو  نہ بنی ہاشم (سید  یا عباسی وغیرہ) میں سے ہوں اور نہ ہی ان کے پاس ضرورت او راستعمال سے زائد اتنا مال یا سامان موجود ہو  کہ جس کی مالیت نصاب (ساڑھے سات تولہ سونا، یاساڑھے باون تولہ چاندی یا ساڑھے باون تولہ چاندی کی موجودہ قیمت)  تک پہنچے،ایسے افراد کو زکات  اور صدقہ فطر دیاجاسکتا  ہے ،تا ہم اپنے اصول (والدین،  دادا، دادی، نانا، نانی وغیرہ) اور فروع (اولاد اور ان کی اولاد وغیرہ)کو نہیں دیا جا سکتا ،اور صدقہ واجبہ کا بھی یہی حکم ہے،البتہ نفلی صدقات کا مصرف خاص نہیں ہے،وہ کسی بھی خیر کے کام میں صرف کیے جاسکتے ہیں ، اس میں جس کو دیا جارہا ہے اس کو مالک بنانا  شرط نہیں ہے ، مال دار کو بھی نفلی صدقہ دیا جاسکتا ہے،  نفلی صدقہ میں بہتر یہ ہے کہ آدمی اپنے والدین اور قریبی رشتہ داروں پر خرچ کرے۔

مشکا ۃ المصابیح میں ہے:

"وعن سلمان بن عامر قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " الصدقة على المسكين صدقة وهي على ذي الرحم ثنتان: صدقة وصلة ". رواه أحمد والترمذي والنسائي وابن ماجه والدارمي".

(کتاب الآداب، باب افضل الصدقة، ج:1، ص:604، ط: المکتب الاسلامی)

بدائع الصنائع  میں ہے :

"ويجوز دفع الزكاة إلى من سوى الوالدين والمولودين من الأقارب ومن الإخوة والأخوات وغيرهم؛ لانقطاع منافع الأملاك بينهم".

(كتاب الزكاۃ، ج:2 ص:50، ط : رشيديه)

وفيه ايضاً:

"وأما صدقة التطوع فيجوز دفعها إلى هؤلاء والدفع إليهم أولى؛ لأن فيه أجرين أجر الصدقة وأجر الصلة وكونه دفعا إلى نفسه من وجه لا يمنع صدقة التطوع."

(كتاب الزكاة،فصل حولان الحول هل هو من شرائط أداء الزكاة،  ج:2، ص:50، ط: دار الكتب العلمية)

فتاوی شامی میں ہے:

"(وصدقة الفطر كالزكاة في المصارف) وفي كل حال.......(قوله: في المصارف) أي المذكورة في آية الصدقات إلا العامل الغني فيما يظهر و لاتصح إلى من بينهما أولاد أو زوجية ولا إلى غني أو هاشمي ونحوهم ممن مر في باب المصرف، وقدمنا بيان الأفضل في المتصدق عليه."

(‌‌كتاب الزكاة، ‌‌باب صدقة الفطر،  ج:2، ص:368، ط: سعيد)

البحر الرائق میں ہے:

"‌وقيد ‌بالزكاة؛ لأن النفل يجوز للغني كما للهاشمي، وأما بقية الصدقات المفروضة والواجبة كالعشر والكفارات والنذور وصدقة الفطر فلا يجوز صرفها للغني لعموم قوله - عليه الصلاة والسلام - «لا تحل صدقة لغني» خرج النفل منها؛ لأن الصدقة على الغني هبة كذا في البدائع."

(كتاب الزكاة، باب مصرف الزكاة،  ج:2، ص:263، ط: دار الكتاب الإسلامي)

تبیین الحقائق میں ہے:

"وكذا جميع الصدقات كالكفارات وصدقة الفطر والنذور لا يجوز دفعها لهؤلاء لما ذكرنا."

(كتاب الزكاة، باب المصرف، ج:1، ص:296، ط: دار الكتاب الإسلامي)

فتاوی عالمگیریہ میں ہے:

"ومصرف هذه الصدقة ما هو مصرف الزكاة كذا في الخلاصة ".

(كتاب الزكاة، ‌‌الباب الثامن في صدقة الفطر، ج:1، ص:194، ط: دار الفكر  بيروت)

وفيه ايضاً:

"هذا ‌في ‌الواجبات كالزكاة والنذر والعشر والكفارة فأما التطوع فيجوز الصرف إليهم كذا ‌في الكافي."

(كتاب الزكاة، الباب السابع في المصارف، ج:1، ص:189، ط: دار الفكر بيروت)

فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144408102569

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں