بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

10 شوال 1441ھ- 02 جون 2020 ء

دارالافتاء

 

ساس کو زکاۃ دینے کا حکم


سوال

بندہ اپنی ساس کو  جو مستحق ہو زکاۃ دے سکتا ہے ؟

 

جواب

واضح رہے کہ اپنے اصول (والدین، دادا، نانا وغیرہ) وفروع (اولاد اور ان کی نسل) کو  اور اسی طرح میاں بیوی کا ایک دوسرے کو زکاۃ  دینا جائز نہیں ہے۔ اس کے علاوہ دیگر  نسبی اور سسرالی رشتہ دار اگر مستحقِ زکاۃ ہوں تو  ان کو زکاۃ دینا جائز ہے، لہذ ا ساس اگر زکاۃ  کی مستحق ہو تو اسے زکاۃ دینا درست ہے۔فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144108200197

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے