بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

28 رمضان 1442ھ 11 مئی 2021 ء

دارالافتاء

 

ساس کے مطالبے پر دوسرے شہر کی اقامت اختیار کرنا لازم نہیں ہے


سوال

ایک شخص اپنے بیوی بچوں کے ساتھ ایک ایسے  شہر میں مقیم ہے جو اس کی بیوی کے میکے سے ہزار کلومیٹر سے بھی زیادہ دور ہے، مگر ایک ہی ملک میں واقع ہے ۔ شخصِ مذکور کی ساس بیوہ ہے اور وہ اپنے شادی شدہ بیٹے، بہو اور پوتے پوتی کے ساتھ رہتی ہے۔ ساس  کی صحت بظاہر ٹھیک ہے، اور اسے کسی جسمانی خدمت کی ضرورت بھی نہیں ہے۔ اس کے باوجود ساس اپنی بیٹی سے بار بار مطالبہ کرتی ہے کہ وہ اپنے میاں کو اس بات پر آمادہ کرے کہ وہ دوسرے شہر کی سکونت ترک کرکے ساس کے شہر میں مستقلاً آباد ہو جائے۔ داماد اپنے شہر سے نقلِ مکانی کر کے  ساس کے شہر میں مستقل قیام پر راضی نہیں ہے، اور اس کی بڑی وجہ یہ بیان کرتا ہے کہ اُس دوسرے شہر میں مکانات کی قیمتیں، ٹیکس  کی شرح، بچوں کی اعلیٰ تعلیم کی فیس وغیرہ اخراجات سب ہی بہت مہنگے ہیں اور داماد کے موجودہ شہر کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہیں۔ اور بھی کچھ نجی وجوہات کی بنا پر داماد اُس دوسرے شہر میں مستقل سکونت اختیار کرنے کو نا پسند کرتا ہے۔ داماد کو اس پر کوئی اعتراض نہیں کہ اس کی زوجہ گاہے گاہے میکے والوں سے  ملنے جایا کرے۔ اس صورت میں کیا داماد الگ شہر میں رہ کر اپنی ساس پر ظلم کر رہا ہے؟ اور کیا اُس داماد کے  لیے واجب ہے کہ وہ اپنی ذاتی پسند اور اپنے مصالح کو خیر باد کہہ کر اُسی شہر میں مستقل سکونت اختیار کرلے جہاں اس کی  ساس صاحبہ اور برادرِ نسبتی رہتے ہیں؟

جواب

واضح ہو کہ  شادی کے بعد عورت پر اس کے والدین سے زیادہ اس کے شوہر کا حق ہوتا ہے، نیز  شوہر کے ذمے  اپنی استطاعت کے مطابق اہل و عیال کو سہولتیں فراہم کرنا ہے، نہ کہ سسرال کی چاہت کے مطابق۔

صورتِ  مسئولہ میں شوہر کے ذمے  اپنی ساس کا مطالبہ ماننا لازم نہیں ہے اور نہ ہی  ساس کے شہر میں اقامت اختیار کرنا لازم ہے۔ شوہر اپنے شہر میں رہ کر اپنی بیوی  اور ساس پر ظلم کرنے والا شمار نہیں ہوگا۔

فيض القدير (2 / 5):

"(أعظم الناس حقًّا على المرأة زوجها) حتى لو كان به قرحة فلحستها ما قامت بحقه ولو أمر أحد أن يسجد لأحد لأمرت بالسجود له فيجب أن لاتخونه في نفسها ومالها وأن لاتمنعه نفسها وإن كانت على ظهر قتب وأن لاتخرج إلا بإذنه ولو لجنازة أبويها  ."

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144209201806

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں