بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 صفر 1442ھ- 25 ستمبر 2020 ء

دارالافتاء

 

سال کے آخر میں صاحبِ نصاب نہ رہا


سوال

1-  بینک اکاؤنٹ میں میں نے جس دن پیسے رکھے تھے اُس دن میں نصاب کا مالک ہو چکا تھا یعنی وہ رقم ساڑھے باون تولہ چاندی کے بقدر تھی، سال کے درمیان میں رقم کم زیادہ بھی ہوتی رہی، مگر جب سال مکمل ہوا تو میں نصاب کا مالک نہیں رہا،  میرے اکاؤنٹ میں صرف پانچ ہزار/5000 رہ گئے،  اس کے علاوہ میرے پاس کوئی نقدی سونا چاندی کچھ نہیں ہے، اب کیا میں ان پانچ ہزار پر زکاۃ دوں گا کہ نہیں؟ ایک عالم صاحب کہتے ہیں کہ زکاۃ دینے کے لیے سال کے شروع اور آخر میں نصاب کا مالک ہونا شرط ہے،  جب کہ سال مکمل ہونے پر یہاں یہ شرط نہیں پائی جا رہی؛ اس لیے آپ پر زکاۃ نہیں۔آپ میری تفصیل کے ساتھ راہ نمائی فرما دیں!

2- دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ یہ اُصول جو بیان کیا جاتا ہے کہ سال کے شروع اور آخر میں نصاب کا مالک ہونا شرط ہے زکاۃ کے لیے تو  کیا یہ اُصول مالِ تجارت اور اُس کے نفع پر بھی لاگو ہو گا کہ نہیں یا اُس کا کوئی اور اُصول ہے؟ مثلاً  اگر میں دکان کرتا ہوں اور سال کے شروع میں میرے پاس جو مالِ تجارت ہے وہ ساڑھے باون تولہ چاندی کے بقدر ہے اور سال کے آخر میں میرے پاس مالِ تجارت جو موجود ہے وہ اور منافع نصاب سے کم ہے یعنی کل رقم میرے پاس مال تجارت کا حساب لگا کر اور منافع،اور نقدی آٹھ ہزار/ 8000 بنتی ہے اس کے علاوہ میرے پاس کچھ بھی نہیں تو اب یہاں پر بھی سال پورا ہونے پر میں نصاب کا مالک نہیں رہا تو کیا اِن آٹھ ہزار پر زکاۃ آئے گی؟۔۔دونوں مسئلوں کا اگر کوئی فرق ہے تو بتا دیں اور تفصیل سے وضاحت فرما دیں!

جواب

1-  صورتِ  مسئولہ میں آپ کی زکاۃ کا سال مکمل ہونے پر اگر آپ واقعۃً صاحبِ نصاب باقی نہیں رہے (جیساکہ آپ نے ذکر کیا ہے) تو  ایسی صورت میں  آپ پر زکاۃ واجب نہ ہوگی۔ جن عالم صاحب نے آپ کو مسئلہ بتایا ہے وہ درست ہے۔

2-   بصدقِ  واقعہ مالِ تجارت پر بھی زکاۃ واجب نہ ہوگی۔

نقدی، مالِ تجارت اور سونا چاندی سب میں زکاۃ واجب ہونے کے لیے یہ ہی ضابطہ ہے کہ جب سال مکمل ہو اس وقت نصاب یا اس سے زیادہ مالِ زکاۃ موجود ہو، اگر نصاب سے کم مال ہو تو زکاۃ واجب نہیں ہوگی۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144108201512

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں