بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

9 ذو الحجة 1445ھ 16 جون 2024 ء

دارالافتاء

 

سال کے اختتام پر نصاب کے برابر مال نہ ہو تو دوبارہ زکوۃ کا حساب کب سے ہوگا؟


سوال

پہلی رجب کو میرے پاس ساڑھے باون تولہ چاندی کے برابر مالیت تھی، جب سال ختم ہوا تو میرے پاس صرف  پچیس ہزار روپے تھے، تو نصاب پورا نہ ہونے کی وجہ سے میں نے زکوۃ نہیں دی۔ اب سوال یہ ہے کہ  اگلے سال بھی پہلی رجب کو ہی زکوۃ دینی ہوگی؟ یا جب میرے پاس دوبارہ نصاب کے برابر  مال آئے گا تو اس وقت سے شمار ہوگا؟اور اس دوران مال مکمل ختم  بھی نہیں ہواتھا۔

جواب

صورتِ مسئولہ  میں  جب یکم رجب کو (جوکہ زکوۃ کی ادائیگی  کادن تھا) آپ کے پاس نصاب کے برابر مال موجود نہیں تھا، تو اب جب اس کے پاس دوبارہ نصاب کے برابر مال آئے گا تو اس دن سے  سال شمار کیا جائےگا  اور   پھر سال گزرنے کے بعد جب  وہی تاریخ آئے گی  اور نصاب کے برابر مال موجود ہو تو   اس پر  زکوۃلازم ہوگی۔

الدر مع الرد میں ہے:

"(وشرط كمال النصاب) ولو سائمة (في طرفي الحول) في الابتداء للانعقاد وفي الانتهاء للوجوب (فلا يضر نقصانه بينهما) فلو هلك كله بطل الحول.

وفي الرد: (قوله: وشرط كمال النصاب إلخ) أي ولو حكما، لما في البحر والنهر، لو كان له غنم للتجارة تساوي نصابا فماتت قبل الحول فدبغ جلودها وتم الحول عليها كان عليه الزكاة إن بلغت نصابا، ولو تخمر عصيره الذي للتجارة قبل الحول ثم صار خلا وتم الحول عليه وهو كذلك لا زكاة عليه؛ لأن النصاب في الأول باق لبقاء الجلد لتقومه بخلافه في الثاني. وروى ابن سماعة أنه عليه الزكاة في الثاني أيضا (قوله: للانعقاد) أي انعقاد السبب أي تحققه بتملك النصاب ط (قوله: للوجوب) أي لتحقق الوجوب عليه ط (قوله: فلو هلك كله) أي في أثناء الحول بطل الحول، حتى لو استفاد فيه غيره استأنف له حولا جديدا."

(کتاب الزکاة، باب زكاة المال، ج:2، ص:302، ط: سعید)

بدائع الصنائع میں ہے:

"فهلاك النصاب في خلال الحول يقطع حكم الحول حتى لو استفاد في ذلك الحول نصابا يستأنف له الحول. لقول النبي: - صلى الله عليه وسلم - «لا زكاة في مال حتى يحول عليه الحول» ، والهالك ما حال عليه الحول. وكذا المستفاد."

(کتاب الزکاة، فصل: وأما الشرائط التي ترجع إلى المال، ج:2، ص:15، ط: سعید)

فقط والله اعلم


فتوی نمبر : 144408101856

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں