میں رکشہ ڈرائیور ہوں اور میں شہر کراچی میں لائن والا رکشہ چلاتا ہوں, جس کا مخصوص روٹ نمبر ہوتا ہے، ہم مخصوص روٹ پر چلتے ہیں اور روز کت ڈیڑھ سو روپے مالکان کو دیتے ہیں، روٹ مالکان اس پورے روٹ کی جمع شدہ رقم سے منشی کو تنخواہ کو بھی دیتے ہیں، ٹریفک پولیس کو بھی دیتے ہیں، جس کی بنا پر تریفک پولیس چالان وغیرہ نہیں کرتی، اور پوچھ گچھ نہیں کرتی، سوال یہ ہے کہ یہ جو رقم مالکان ٹریفک والوں کو دیتے ہیں رشوت ہے یا نہیں؟ اور ہماری کمائی حلال ہے یا حرام؟
اگر رکشے کے کاغذات اور دیگر قانونی ضروریات پوری ہوں تو پھر ٹریفک پولیس کو دی جانے والی یہ رقم رشوت کے حکم میں ہو گی، جس کا لینا تو ٹریفک پولیس کے لئے کسی صورت میں جائز نہیں ، البتہ اگر اس کے بغیر قانونا گنجائش ہونے کے باوجود ٹریفک پولیس کی طرف سے روٹ پر چلنے کی اجازت نہ ملے تو حق کے حصول کے لئے مالکان کے لئے یہ رشوت دینے کی گنجائش ہو گی، لیکن ٹریفک پولیس کے لئے اس کا لینا پھر بھی جائز نہیں، اور اگر کاغذات یا روٹ پرمٹ وغیرہ قانون سے متعلق مسئلہ ہو تب یہ خالص ایسی رشوت ہو گی جس کا لینا دینا دونوں جائز نہیں۔البتہ ان دونوں صورت میں رکشے سے کرائے کیی مد میں حاصل ہونے والی آمدنی حلال ہے، واللہ اعلم
فتوی نمبر : 143512200040
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن