بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

27 صفر 1444ھ 24 ستمبر 2022 ء

دارالافتاء

 

رقوم کی منتقلی پر اجرت وصول کرنا


سوال

ہماری دکان سےلوگ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام والی رقم وصول کرتے ہیں، جس کی  ترتیب کچھ اس طرح سے ہے کہ لوگ آکر انگوٹھا لگا لیتے ہیں اور ہم انہیں رقم دیتے ہیں، لیکن ہم ان سے حکومت کی طرف سے مقرر کردہ رقم (جو کہ ایک ہزار پر تین روپے ہیں) سے زیادہ   وصول  کرتے ہیں اور یہ زائد رقم وصول کرنے کی کئی وجوہات ہیں:

اگر ہم اضافی رقم وصول نہ کریں، تو ہمارا خرچہ پورا نہیں ہوگا، کیوں کہ ہم دیہات میں رہتے ہیں، ہمیں بینک سے رقم وصول کرنے کے لیے شہر جانا پڑتا ہے، جس کے لیے ہم کسی کو دیہاڑی دے کر بھیجتے ہیں، دکان میں مسلسل دو بندے پورا دن   اس عمل میں  مصروف رہتے ہیں، ایک بندہ انگوٹھے لگواتا ہے،  جب کہ دوسرا بندہ ریکارڈ لکھتا ہے، ظاہر ہے  کہ ان کا بھی خرچہ اٹھانا  پڑتا ہے، اسی طرح اس عمل میں جو آلہ استعمال ہوتا ہے، تقریباً 700 روپے اس کا خرچہ آتا ہے۔

ہم ایک قسط کے لیے تقریباً آٹھ لاکھ روپے کی رقم اپنے اکاؤنٹ میں رکھتے ہیںِ کیوں کہ گاہک جب اپنی رقم وصول کرلیتا ہے، اس کے بعد حکومت کی جانب سے وہ رقم ہمارے اکاؤنٹ میں منتقل ہوتی ہے اور لوگوں کو بھی اس میں سہولت ہے کہ وہ  ہمارے یہاں سے اپنی رقم وصول  کریں، کیوں کہ ان کے لیے شہر میں جاکر رقم وصل  کرنا دشوار بھی ہے کہ مستورات سمیت شہر تک کا سفر کرنا پڑتا ہے اور اس سفر پر اور بھی زیادہ خرچہ ہوجاتا ہے۔

برائے مہربانی شریعت کی روشنی میں مذکورہ مسئلہ کی وضاحت فرمائیں۔

جواب

صورتِ مسئولہ میں جب دکاندار کو رقم کی منتقلی پر حکومت کی طرف سے ایک ہزار روپے پر تین روپے  اجرت دی جاتی  ہے، تو اس صورت میں کسٹمر سے   مزید اجرت طے کر کے الگ سے وصول کرنا  جائز نہیں ہے۔

البحر الرائق میں ہے:

"لا يجوز لأحد من المسلمين أخذ مال أحد ‌بغير ‌سبب شرعي."

(كتاب الحدود، ج:5، ص:44، ط:دار الكتاب الاسلامي)

جب کہ اس مسئلہ کی نظیر  امداد الفتاوی میں ہے:

"سوال: لیسنس دار  جو اسٹامپ خزانہ سے بیچنے کے لیے لاتے ہیں، تو ان کو ایک روپے پر تین پیسے کمیشن کے طور پر دیے جاتے ہیں، یعنی ایک روپے کا اسٹامپ سواپندرہ آنہ پر ملتا ہے اور لیسنس داروں کو یہ ہدایت قانوناً ہوتی ہے کہ وہ ایک روپیہ سے زائد میں اس اسٹامپ کو نہ بیچیں، اب قابلِ دریافت یہ بات ہے کہ اگر یہ شخص ایک روپے والے اسٹامپ کو مثلاً ایک روپے یا سترہ آنے میں فروخت کرے، تو شرعاً جائز ہوگا یا ناجائز؟

جواب: حقیقت میں یہ بیع نہیں ہے، بلکہ معاملات کے طے کرنے کے لیے جو عملہ درکار ہے، اس عملہ کے مصارف اہل معاملات سے بایں صورت  لیے جاتے ہیں کہ انہی کے نفع  کے لیے اس عملہ کی ضرورت پڑی، اس لیے اس کے مصارف کا ذمہ دار انہی کو بنانا چاہیے  اور لیسنس دار بھی مصارف پیشگی داخل کر کے اہلِ معاملہ سے وصول کرنے کی اجازت حاصل کرلیتا ہے اور اس تعجیل ایفاء کے صلہ میں اس کو کمیشن ملتا ہے، پس یہ شخص عدالت کا وکیل ہے، مبیع کا ثمن لینے والا نہیں، اس لیے مؤکل کے خلاف کر کے زائد وصول کرنا حرام ہوگا، فقط۔"

(امداد الفتاوی، ج:3، ص:113، ط: مکتبہ دار العلوم کراچی)

فقط والله اعلم


فتوی نمبر : 144402100392

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں