بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 ذو القعدة 1445ھ 23 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

رکن اور شرط میں فرق


سوال

ارکان اور شرائط کی تعریف میں کیا فرق ہے؟

جواب

ارکان رکن کی جمع ہے اور رکن کہتے ہیں کسی ماہیت کے ایسے جزء کو کہ اگر وہ جزء نہ ہو تو ماہیت بھی نہ رہے جیسے نماز کے لیے رکوع۔

شرائط شرط کی جمع ہے اور شرط کہتے ہیں کسی ماہیت کی ایسی خارجی چیز جس کے وجود پر ماہیت کا وجود موقوف ہو جیسے نماز کے لیے وضو۔

فتاوی شامی میں ہے:

في الدر:

"ثم الركن ما يكون فرضا داخل الماهية، وأما الشرط فما يكون خارجها"

في الرد:

"(قوله: داخل الماهية) يعني بأن يكون جزءا منها يتوقف تقومها عليه، والماهية ما به الشيء هو هو، سميت بها لأنه يسأل عنها بما هو.

(قوله: وأما الشرط) هو في اللغة العلامة. وفي الاصطلاح ما يلزم من عدمه العدم ولا يلزم من وجوده وجود ولا عدم، وقوله فما يكون خارجها بيان للمراد به هنا، والمراد ما يجب تقديمه عليها واستمراره فيها حقيقة أو حكما، فالشرط والركن متباينان كذا في الحلية."

(كتاب الطهارة، أركان الوضوء،  ج1، ص94، سعيد)

و فیہ :

" اعلم أن المتعلق بالشيء إما أن يكون داخلا في ماهية فيسمى ركنا كالركوع في الصلاة، أو خارجا عنه، فإما أن يؤثر فيه كعقد النكاح للحل فيسمى علة، أو لا يؤثر، فإما أن يكون موصلا إليه في الجملة كالوقت فيسمى سببا، أو لا يوصل إليه، فإما أن يتوقف الشيء عليه كالوضوء للصلاة فيسمى شرطا أو لا يتوقف كالأذان فيسمى علامة كما بسطه البرجندي، فكان عليه أن يزيد ولا يؤثر فيه ولا يوصل إليه في الجملة إسماعيل."

(كتاب الصلاة، باب شروط الصلاة، ج1، ص402، سعيد)

فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144407100915

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں