بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

9 صفر 1443ھ 17 ستمبر 2021 ء

دارالافتاء

 

رکوع کی حالت میں نظر کہاں رکھیں؟


سوال

رکوع کی حالت میں نظر کہاں رکھیں؟ اختلاف اور دلیل کے ساتھ بیان کریں!

جواب

نماز پڑھنے والا  رکوع  کی حالت میں اپنی نگاہ  پیروں کی پشت پر رکھے گا، فقہِ حنفی میں یہی قول منقول ہے۔ جیسا کہ الدر المختار میں ہے:

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (1/ 477):
"(ولها آداب) تركه لايوجب إساءةً ولا عتابًا كترك سنة الزوائد، لكن فعله أفضل (نظره إلى موضع سجوده حال قيامه، وإلى ظهر قدميه حال ركوعه".

بعض حضرات کے نزدیک قیام کی طرح رکوع کی حالت میں بھی نظریں سجدہ کی جگہ رکھی جائیں گی اور اُن کا مستدل وہ روایات ہیں، جن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سجدہ کی جگہ دیکھنے کا حکم فرمایا ہے، مثلاً ایک روایت میں آتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے فرمایا: اے انس! اپنی نظروں کو سجدہ کی جگہ پر رکھو۔

سنن البيهقي الكبرى (2/ 284):
"عن أنس قال: قال رسول الله صلى الله عليه و سلم:  يا أنس اجعل بصرك حيث تسجد".

ائمہ احناف فرماتے ہیں کہ یہ روایت حالتِ قیام سے متعلق ہے۔

اعلاء السنن میں ہے:

"وحديث أنس يحمل على أن موضع السجود منتهى بصره، فيكون المقصود النهي عن جعله متجاوزا عن محل السجود، لا متقصرا على محل السجود. وحديث أبي داود ظاهـــرا يدل على أن يكون نظره في حال القعود إلى حجره كما قاله الشيخ. وفي الدر المختار: " لها ( أي للصلاة ) آداب- إلى أن قال: نظره إلى موضع سجوده حال قيامه، وإلى ظهر قدميه حال ركوعه، والى أرنبة أنفه حال سجوده، وإلى حجره حال قعوده، وإلى منكبه الأيمن والأيسر عند التسليمة الأولى والثانية، لتحصيل الخشوع."

فقط  واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144108200905

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں