بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

4 شوال 1445ھ 13 اپریل 2024 ء

دارالافتاء

 

رخصتی سے پہلے نکاح ختم کروانے کی صورت/ نابالغ لڑکے کی طلاق


سوال

والدین نے بچپن میں ہی اپنی بیٹی کا نکاح کروادیا، بعد میں خاندان میں لڑائی ہوگئی، اب لڑکی بالغ ہے اور لڑکا نابالغ ہے، اور لڑکی کے والدین اس نکاح کو ختم کرنا چاہتے ہیں، سوال یہ ہے کہ اس نکاح کو ختم کروانے کی کیا صورت ہوسکتی ہے؟اگر عدالت سے رجوع کر کے یہ نکاح ختم کروا لیا جائے تو کیسا ہے؟ دلائل کی روشنی میں راہ نمائی فرمائیں۔

جواب

صورت مسئولہ میں عدالت سے نکاح ختم کروانے کی شرعا کوئی وجہ نہیں، لہذا نکاح  ختم کروانے کی صحیح صورت یہ ہوگی کہ لڑکے کے بالغ ہونے کا انتظار کیا جائے گا اور بالغ ہونے کے بعد  اگر لڑکا طلاق دینا چاہے تو لڑکی کو  ایک طلاق دے کر اپنے عقد نکاح سے الگ کردے، اس طرح دونوں ایک دوسرے سے آزاد ہو جائیں گے۔

بدائع الصنائع میں ہے:

"ومنها ‌أن ‌يكون ‌بالغا فلا يقع طلاق الصبي وإن كان عاقلا لأن الطلاق لم يشرع إلا عند خروج النكاح من أن يكون مصلحة وإنما يعرف ذلك بالتأمل والصبي لاشتغاله باللهو واللعب لا يتأمل فلا يعرف."

(كتاب الطلاق، فصل في شرائط ركن الطلاق وبعضها يرجع إلى الزوج، ج:٣، ص:١٠٠، ط:دارالكتب العلمية)

فتاویٰ ہندیہ میں ہے:

"(أما تفسيره) شرعا فهو رفع قيد النكاح حالا أو مآلا بلفظ مخصوص كذا في البحر الرائق. (وأما ركنه) فقوله: أنت طالق. ونحوه كذا في الكافي."

(كتاب الطلاق، الباب الأول في تفسير الطلاق، ج:١، ص:٣٤٨، ط:رشيدية)

فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144504100691

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں