بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

4 جُمادى الأولى 1443ھ 09 دسمبر 2021 ء

دارالافتاء

 

رخصتی سے قبل فوت ہونے والی بیوی کے مہر کا حکم


سوال

کیا فرما تے ہیں علماءِ  کرام اس مسئلے کے بارے میں  کہ ایک عورت نے خودکشی کرلی اور  وہ شادی شدہ ہے،  ایجاب و قبول ہوگیا تھا، رخصتی نہیں ہوئی، تو کیا مہر مکمل شوہر پر لازم ہوگی؟

جواب

صورتِ  مسئولہ میں  نکاح، ایجاب وقبول (اگر شرعی گواہوں کی موجود گی میں ہوا ہے) کے بعد   رخصتی سے پہلے فوت  ہونے والی عورت کے مکمل متعین کردہ مہر  کی ادائیگی شوہر کے  ذمے  لازم ہے۔ اور شوہر بھی مرحومہ بیوی کی میراث (ترکہ) کا وارث بنے گا۔

فتاوی عالمگیری میں ہے:

"والمهر يتأكد بأحد معان ثلاثة: الدخول، والخلوة الصحيحة، وموت أحد الزوجين سواء كان مسمى أو مهر المثل حتى لا يسقط منه شيء بعد ذلك إلا بالإبراءمن صاحب الحق، كذا في البدائع، وإن تزوجها ولم يسم لها مهرا أو تزوجها على أن لا مهر لها فلها مهر مثلها إن دخل بها أو مات عنها، وكذا إذا ماتت هي."

(کتاب النکاح، الفصل الثاني فيما يتأكد به المهر والمتعة، ج: 1/ صفحہ: 303 و304، ط: دار الفکر)

"و أما للزوج فجالتان: النصف عند عدم الولد و ولد الابن."

(السراجي،ص: 6، ط: سعيد)

فقط واللہ اعلم 


فتوی نمبر : 144203200102

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں