بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

25 جمادى الاخرى 1443ھ 29 جنوری 2022 ء

دارالافتاء

 

ایک طلاق کے بعد رجوع کی صورت


سوال

اگر بیوی کو یہ کہا کہ اگر تم TVکو چھوؤ تو تم کو طلاق تو کیا اس سے طلاق واقع ہوجائے گی اور دوبارہ سے نکاح کرنے کی کیا صورت ہے؟

جواب

صورتِ مسئولہ  میں جب کہ شوہر نے یہ جملہ کہا کہ" اگر تم TVکو چھوؤ تو تم کو طلاق "تو اس صورت میں اس کی بیوی پر TVکو چھونے پر ایک طلاق واقع ہوجائے گی اور اس کے بعد شوہر  بیوی سے رجوع کر سکتا ہے۔ 

لیکن آئندہ کے  لیے شوہر کے پاس صرف دو طلاقوں کا اختیار باقی رہ جائے گا۔  اگر اس نے مزید دو طلاقیں دیں تو اس صورت میں یہ بیوی اس پر ہمیشہ کے  لیے حرام ہو جائے گی۔

رجوع کرنے کا حکم یہ ہے کہ ایک طلاقِ رجعی کے بعد عدت (یعنی تین ماہواریاں اگر حمل نہ ہو، ورنہ بچے کی پیدائش) گزرنے سے پہلے رجوع کیاجاسکتاہے،اگر مرد اپنی بیوی سے رجوع کرنا چاہے تو زبان سے کہہ دے کہ میں نے رجوع کرلیا،اس سے قولی طور پر رجوع ہوجائے گا،اور اگر زبان سے کچھ نہ کہے بلکہ بیوی سے تعلق قائم کرلے یاخواہش و رغبت سے اسے چھوئے یابوسہ لے لے اس سے بھی رجوع ہوجائے گا۔حاصل یہ ہے کہ قولاً یاعملاً رجوع کرلیناکافی ہے، البتہ قولی رجوع کرنا اوراس پر گواہان قائم کرنا مستحب ہے۔

اگر عدت پوری ہوگئی اوراس کے بعد دونوں کاارادہ ساتھ رہنے کاہوتودونوں کی رضامندی سے گواہوں کی موجودگی میں تجدیدِنکاح (دوبارہ نکاح کرنا)کافی ہوگا،البتہ اس کے بعد شوہردوطلاق کامالک ہوگا۔(فتاویٰ شامی،3/230،ط:ایچ ایم سعید)فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144207200712

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں