بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

19 محرم 1444ھ 18 اگست 2022 ء

دارالافتاء

 

دو طلاق کے بعد رجوع


سوال

ایک دفعہ میری بیوی کسی رشتہ دار کے ہاں جانا چاہتی تھی تو میں نے کہا کہ یہ بندہ آپ کا کیا لگتا ہے؟  تو اس نے کہا کہ یہ میرا شوہر ہے تو میں نے کہا کہ پھر تو آپ مجھ پر طلاق ہو ،  دو دفعہ کہا ۔ رہنمائی فرمائیں !

جواب

صورتِ مسئولہ میں آپ کی بیوی کو دو طلاقیں  رجعی واقع  ہو گئی ہیں ؛  اس  لیے کہ اس شخص کا شوہر کا نہ ہونا  تو دونوں کے  سامنے  واضح  تھا، شوہر کا  طلاق دینا بیوی کے اس نامناسب جملے کے جواب میں تھا، دو طلاق رجعی دینے کی صورت میں دورانِ عدت شوہر کو اپنی بیوی سے رجوع کرنے کا شرعی حق حاصل ہوتا ہے، رجوع کرلینے  کی صورت میں شوہر کو  آئندہ صرف ایک طلاق کا حق   ہوگا، بشرطیکہ اس سے پہلے کوئی طلاق نہ دی ہو۔

اگر عورت حاملہ نہ ہو تو عدت تین ماہواریاں ہے، اور حاملہ ہو تو بچے کی پیدائش تک عدت ہوتی ہے۔ اور رجوع کا طریقہ یہ ہے کہ زبان سے کہہ دے کہ میں نے رجوع کیا یا عملًا میاں بیوی کا تعلق قائم کرلے، البتہ زبانی رجوع بہتر ہے، اور اس پر گواہ بنالینا بھی بہتر ہے۔

اور اگر عدت گزرنے تک رجوع نہیں کیا تو عدت گزرتے ہی عورت نکاح سے نکل جائے گی، اور دوبارہ ساتھ رہنے کے لیے نیا مہر مقرر کرکے گواہوں کی موجودگی میں  نکاح کی تجدید کرنی ہوگی، بہرصورت آئندہ گفتگو میں احتیاط کیجیے؛ کیوں کہ صرف ایک ہی طلاق کا حق باقی ہے۔

جیسا کہ فتاوی ہندیہ میں ہے:

"وإذا طلق الرجل إمرأته تطليقةً رجعيةً او تطليقتين فله أن يراجعها في عدتها رضيت بذلك أو لم ترض، كذا في الهداية".

(الباب السادس في الرجعة، ١/ ٤٧٠، ط: رشيدية)

 فقط واللہ اعلم

 


فتوی نمبر : 144211201572

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں