بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

23 ربیع الثانی 1443ھ 29 نومبر 2021 ء

دارالافتاء

 

بیوی سے ملاعبت کی صورت میں انزال ہوجائے تو روزے کا کیا حکم ہے؟


سوال

اگر روزے کی حالت میں بیوی کے قریب چلے گئے ہم بستری نہیں ہوئی ،بس قربت ہوتے ہی فارغ ہوگئے تو اس صورت میں کیا روزہ باقی رہے گا ؟اس صورت میں  کیا حکم ہے ؟

جواب

روزے  کی حالت میں بیوی سے ملاعبت، بوس و کنار کی وجہ سے اگر انزال ہو جائے ،بشرطیکہ دخول نہ کیا ہو تو روزہ ٹوٹ جاتا ہے، اور رمضان کے احترام میں باقی دن کھانے پینے سے اجتناب ضروری ہو گا۔ بعد میں قضا کی نیت سے ایک روزہ بھی رکھنا ہوگا،کفارہ لازم نہ ہوگا، نیز مذکورہ شخص کو توبہ و استغفار بھی کرنا چاہیے۔ نیزروزے کی حالت میں   روزے دار کو اس فعل سے اجتناب کرنا لازم ہے۔

اور اگر سوال میں قربت سے مقصود ہم بستری  ہے کہ   شوہر کا عضوِ مخصوص بیوی کی شرم گاہ میں داخل ہوگیا ہوتو  اس سے روزہ فاسد  ہوجاتا ہے، نیز رمضان المبارک کے روزے میں یہ صورت پیش آجائے تو  چاہے انزال  ہو یا نہ ہو، توبہ و استغفار کے ساتھ   ساتھ اس روزے کی قضا کرنے کے علاوہ  کفارے  میں ساٹھ  روزے  اس طور پر رکھنا لازم ہوتے ہیں کہ درمیان میں ایک ناغہ بھی نہ ہو،اگر ایک بھی ناغہ ہوگیا تو نئے سرے سے ساٹھ روزے رکھنا لازم ہوگا۔اگر بیماری یا بڑھاپے وغیرہ کی وجہ سے کفارے  میں  روزے رکھنے کی   قدرت نہ ہو تو ساٹھ مسکینوں کو صدقہ فطر کی مقدار غلہ یا اس کی قیمت دینا لازم ہے،  ایک صدقہ فطر کی مقدار  نصف صاع  (پونے دو کلو ) گندم یا اس کی قیمت  ہے۔

ایک مسکین کو ساٹھ دن صدقہ فطر  کے برابر غلہ وغیرہ دیتا رہے یا ایک ہی دن ساٹھ مسکینوں میں سے ہر ایک کو صدقہ فطر کی مقدار دےدے ،  دونوں جائز ہے۔

صدقہ فطر کی مقدار غلہ یا قیمت  دینے کے بجائے اگر ساٹھ مسکینوں کو ایک دن صبح وشام، یا ایک مسکین کو ساٹھ دن صبح وشام کھانا کھلادے، تو بھی کفارہ ادا ہوجائےگا۔

نیز اس صورت میں اگر بیوی کا روزہ تھا  تو  اس کا روزہ  بھی ٹوٹ  گیا، بیوی پر بھی قضا یعنی ایک روزے کے بدلہ میں ایک روزہ اور کفارہ دونوں لازم ہیں ۔ کفارے کی تفصیل اوپر لکھی جاچکی ہے۔

الفتاوى الهندية (1/ 204)

''وإذا قبل امرأته، وأنزل فسد صومه من غير كفارة، كذا في المحيط. ۔۔۔۔ والمس والمباشرة والمصافحة والمعانقة كالقبلة، كذا في البحر الرائق''.

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144209201039

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں