بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

10 ذو القعدة 1445ھ 19 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

روزے میں متعدد مرتبہ جماع کرنے سے کتنے کفارے لازم ہوں گے؟


سوال

میری شادی دس سال پہلے ہوئی۔ جوانی کے جوش اور شرعی مسائل سے نا علم ہونے کی وجہ سے میں نے اپنی بیوی کو روزے کی حالت میں ہمبستری پر مجبور کیا۔ البتہ یہ یاد نہیں کہ ہم نے روزے کی حالت میں کتنی مرتبہ جماع کیا۔ اس بارے میں رہنمائی فرمائیں کہ روزے کی قضا اور کفارہ کی مقدار کس طرح متعین کی جائے گی؟ مزید اگر مسلسل روزے رکھنے کی استطاعت نہ ہو تو کفارہ کس شکل میں دیا جا سکتا ہے؟

جواب

واضح رہے کہ ایک ہی رمضان میں روزے کی حالت  مختلف ایام میں متعدد بار جماع کرنے سے ایک ہی کفارہ لازم ہوتا ہے، اگر ایک سے زائد ماہِ رمضان میں(کئی سالوں میں) روزے کی حالت میں جماع کیا تو کفارے بھی ایک سے زائد لازم ہوں گے۔

لہذا  اگر آپ نے ایک رمضان میں ایسا کیا تھا تو   ان  روزوں کی قضا (جن میں جماع کیا تھا)اور ایک کفارہ یعنی ساٹھ دن مسلسل روزے رکھنا واجب ہے، اگر درمیان میں ایک روزہ بھی چھوٹ گیا تو از سرِ نَو روزے رکھنے ہوں گے۔ اگر واقعتًا کفارے  کے  روزے  (مسلسل دو ماہ کے روزے) رکھنے کی استطاعت نہ ہو تو پھر  ساٹھ مسکینوں کو دو وقت کا کھانا بھی کھلا سکتے ہیں۔

اور اگر ایک سے زائد رمضان کے مہینوں میں روزے کی حالت میں جماع کیا تو اتنے روزے بھی قضا کرنے ہوں گے جتنے روزوں میں جماع کیا، ساتھ ساتھ اتنے ہی کفارے  بھی ادا کرنے ہوں گے جتنے رمضان کے مہینوں میں جماع کیا۔

بدائع الصنائع میں ہے:

"ولو جامع في رمضان متعمداً مراراً بأن جامع في يوم ثم جامع في اليوم الثاني ثم في الثالث ولم يكفر فعليه لجميع ذلك كله كفارة واحدة عندنا، ولو جامع في يوم ثم كفر ثم جامع في يوم آخر فعليه كفارة أخرى في ظاهر الرواية، ولو جامع في رمضانين ولم يكفر للأول فعليه لكل جماع كفارة في ظاهر الرواية، وذكر محمد في الكيسانيات أن عليه كفارة واحدة، وكذا حكى الطحاوي عن أبي حنيفة."

( بدائع الصنائع، كتاب الصوم،فصل حكم فساد الصوم،101/2، دارالكتب العلمية)

البحرالرائق میں ہے:

"ولو جامع مرارا في أيام رمضان واحد، ولم يكفر كان عليه كفارة واحدة؛ لأنها شرعت للزجر، وهو يحصل بواحدة فلو جامع وكفر ثم جامع مرة أخرى فعليه كفارة أخرى في ظاهر الراوية للعلم بأن الزجر لم يحصل بالأول۔ ولو جامع في رمضانين فعليه كفارتان، وإن لم يكفر للأولى في ظاهر الرواية، وهو الصحيح كذا في الجوهرة."

(البحرالرائق، كتاب الصوم،باب ما يفسد الصوم وما لا يفسده،298/2، دارالكتاب الاسلامي)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144309100972

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں