بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

6 محرم 1446ھ 13 جولائی 2024 ء

دارالافتاء

 

روزہ کے دوران سخت مجبوری کی حالت میں پانی پینے کا حکم


سوال

اگر کسی نے روزہ کے دوران سخت مجبوری کی حالت میں پانی پی لیا تو کیا کفارہ لازم ہوگا یا نہیں ؟

جواب

اگر ایسی سخت مجبوری اور پیاس کی وجہ سے رمضان کےروزے کی حالت میں پانی پی کر روزہ توڑدیا ہو کہ روزہ نہ توڑا جاتا تو جان جانے یا سخت تکلیف میں پڑجانے کا خطرہ ہوتا، تو ایسے روزے کو توڑنے کی صورت میں صرف قضا لازم ہوگی، کفارہ لازم نہیں ہوگا۔ اور اگر روزہ توڑنے کی ایسی شدید ضرورت نہ تھی، اور پھر رمضان کا  روزہ توڑا تو قضا اور کفارہ دونوں لازم ہوں گے۔رمضان المبارک کے روزوں کے علاوہ کوئی اور روزہ  ضرورت شدیدہ کے بغیر  توڑا تب بھی صرف قضاء لازم ہوگی ،کفارہ نہیں آئے گا ۔

الفتاوى الهندية میں ہے:

"(ومنها العطش والجوع كذلك) إذا خيف منهما الهلاك أو نقصان العقل كالأمة إذا ضعفت عن العمل وخشيت الهلاك بالصوم، وكذا الذي ذهب به موكل السلطان إلى العمارة في الأيام الحارة إذا خشى الهلاك أو نقصان العقل، كذا في فتح القدير".

(ج نمبر ۱، ص نمبر ۲۰۷)

فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144505102052

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں