بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 21 ستمبر 2020 ء

دارالافتاء

 

روزے کی حالت میں دواعی زنا کا حکم


سوال

 کیا دواعی زنا سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے، اگر ٹوٹ جاتا ہے تو اس کا کفارہ کیا ہے؟ نیز اگر زبردستی کسی روزے دار سے معذور غیر روزے  دار نے دواعی زنا کیا تو کیا حکم ہے؟

جواب

کسی غیر محرم سے ناجائز تعلقات قائم کرنا ناجائز اور حرام ہے، روزے کی حالت میں اس کا وبال مزید بڑھ جاتا ہے، لہذا روزے کی حالت میں دواعی زنا کا ارتکاب کرنا سنگین گناہ ہے، اگر اس کی وجہ سے انزال ہوگیا تو روزہ ٹوٹ گیا، صرف قضا لازم ہے،  کفارہ نہیں اور اگر انزال نہیں ہوا تو روزہ نہیں ٹوٹا، روزے دار کے ساتھ دواعی زنا کے ارتکاب کا اکراہ اور حالتِ رضا ہر صورت میں یہی حکم ہے۔ البتہ جس روزے دار کے ساتھ واقعۃً شرعی اکراہ کرکے (جان سے مارنے یا عضو تلف کرنے کی دھمکی وغیرہ دے کر) دواعی زنا کا ارتکاب کیا جائے اور آخر تک اس کی رضامندی شامل نہ ہو تو وہ گناہ گار نہیں ہوگا، سارا وبال زبردستی کرنے والے پر ہوگا، تاہم روزہ فاسد ہونے کے اعتبار سے مجبور کا حکم بھی وہی ہوگا جو سابقہ سطور میں بیان ہوا.

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) - (2 / 401):
"(قوله: أو أوجر مكرهًا) أي صب في حلقه شيء والإيجار غير قيد فلو أسقط قوله: أوجر وأبقى قول المتن أو مكرهًا معطوفًا على قوله: خطأ لكان أولى؛ ليشمل ما لو أكل أو شرب بنفسه مكرهًا فإنه يفسد صومه خلافًا لزفر والشافعي، كما في البدائع وليشمل الإفطار بالإكراه على الجماع، قال في الفتح: واعلم أن أبا حنيفة كان يقول أولاً في المكره على الجماع عليه القضاء والكفارة؛ لأنه لايكون إلا بانتشار الآلة وذلك أمارة الاختيار ثم رجع وقال: لا كفارة عليه وهو قولهما؛ لأن فساد الصوم يتحقق بالإيلاج وهو مكره فيه مع أنه ليس كل من انتشرت آلته يجامع. اهـ أي مثل الصغير والنائم". فقط و الله أعلم


فتوی نمبر : 144109202341

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں