بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

15 محرم 1446ھ 22 جولائی 2024 ء

دارالافتاء

 

روزے کی حالت میں سوتے ہوئے منہ سے خون آنے کا حکم


سوال

صبح نیند سے بیدار ہونے کے بعد میرے منہ میں خون ہوتا ہے ، روزے کی حالت میں اس کو نگل لیا ، اور خون کا مزہ محسوس نہیں ہوا، لیکن یہ نہیں دیکھا تھا کہ وہ خون تھوک پر غالب ہے یا نہیں ، کیا ایسی حالت میں روزہ فاسد ہوگا یا نہیں؟

جواب

روزے کی حالت میں اگر منہ سے خون نکلے اور روزہ دار اسے نگل لےاور خون کا ذائقہ محسوس نہ ہو ،تو ایسی صورت میں جب تک یہ یقین نہ ہو کہ خون غالب ہےیا تھوک کے برابر ہے تو روزہ فاسد نہیں ہوگا، اور اگر یہ یقین ہو کہ خون غالب یا تھوک کے برابر ہے تو روزہ فاسد ہوجائے گا اور اس دن کے روزے کی قضا  کرنا لازم ہوگی ۔( خون غالب ہونے کا مطلب یہ ہے کہ تھوک کا رنگ سرخی مائل ہو۔ اگر تھوک زردی مائل ہو تو ایسی صورت میں خون مغلوب اور تھوک غالب شمار ہوگا۔)

فتاوی شامی میں ہے :

"(أو خرج الدم من بين أسنانه ودخل حلقه) يعني ولم يصل إلى جوفه أما إذا وصل فإن غلب الدم أو تساويا فسد وإلا لا إلا إذا وجد طعمه بزازية واستحسنه المصنف وهو ما عليه الأكثر وسيجيء".

( کتاب الصوم ، ج:۲،ص:۳۹۶،ط:سعید)

فتاوی ہندیہ میں ہے :

"الدم إذا خرج من الأسنان ودخل حلقه إن كانت الغلبة للبزاق لايضره، وإن كانت الغلبة للدم يفسد صومه، وإن كانا سواء أفسد أيضاً استحساناً".

(کتاب الصوم،1/ 203  ط : رشیدیہ )

الأشباه والنظائر میں ہے :

"الیقین لایزول بالشك".

 (ص :۶۰ ،ط :قدیمی کتب خانه)

فقط واللہ اعلم 


فتوی نمبر : 144509101508

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں